1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ٹرمپ کے دور میں پہلا ڈرون حملہ، دو افراد ہلاک

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے پاکستان میں کیے گئے پہلے مبینہ امریکی ڈرون حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ دو مارچ جمعرات کے روز پاکستانی قبائلی علاقے میں افغان سرحد کے قریب ایک گاؤں میں کیا گیا۔

US-Drohnen in Afghanistan (picture alliance/Pacific Press/A. Ronchini)

لیزر گائیڈڈ میزائلوں سے مسلح ایک امریکی ڈرون طیارہ

پاکستان میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سے کرم ایجنسی سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس مبینہ امریکی فضائی حملے کی ایک مقامی حکومتی اہلکار اور ایک قبائلی رہنما نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ ماضی میں پاکستان کے ریاستی علاقے میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف امریکی ڈرون حملے باقاعدگی سے کیے جاتے تھے لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے حملوں کی تعداد اور تسلسل بہت کم ہو گئے تھے۔ تاہم اگر باقاعدہ تصدیق ہو گئی کہ یہ ایک امریکی حملہ ہی تھا، تو یہ جنوری میں صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے لے کر اب تک جنوبی ایشیائی ایٹمی طاقت پاکستان میں کیا جانے والا پہلا امریکی ڈرون حملہ ہو گا۔

اوباما کے دور میں ایک سو سترہ شہری ڈرون حملوں کا نشانہ بنے

اب تک باسٹھ ہزار پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہلاک

آرمی پبلک اسکول پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ڈرون اٹیک میں ہلاک

شمالی پاکستانی قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے آمدہ رپورٹوں کے مطابق اس حملے میں ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ علاقہ پاکستان کے زیادہ تر لاقانونیت کا شکار ان قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں کئی سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور ہمسایہ ملک افغانستان سے تعلق رکھنے والے القاعدہ اور طالبان کے عسکریت پسندوں نے اپنے مبینہ ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں۔

Afghanistan Taliban-Führer Akhtar Mohammed Mansur durch Drohne getötet (Reuters)

پاکستان میں گزشتہ بڑا امریکی ڈرون حملہ پچھلے سال مئی میں بلوچستان میں کیا گیا تھا، جس میں افغان طالبان کا رہنما ملا اختر منصور مارا گیا تھا

کرم ایجنسی کے ایک مقامی حکومتی اہلکار نے بتایا، ’’یہ واضح نہیں کہ اس حملے میں جن دو افراد کو نشانہ بنایا گیا، وہ کون تھے۔‘‘ اسی بارے  میں ایک مقامی سرکردہ قبائلی شخصیت حاجی ضامن حسین نے کہا، ’’ڈرون طیارے سے فائر کیا گیا میزائل ایک موٹر سائیکل کو لگا، جس پہلے آگ لگ گئی اور پھر فوراﹰ ہی وہ دھماکے سے پھٹ گئی۔‘‘

اس حملے کے بارے میں اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے آخری خبریں آنے تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔

اس سے قبل پاکستانی علاقے میں کیا جانے والا آخری بڑا امریکی ڈرون حملہ گزشتہ برس مئی میں کیا گیا تھا، جس میں جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں افغان طالبان کے لیڈر ملا اختر منصور کو ہدف بنا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

DW.COM