1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں ویلینٹائن ڈے

پاکستان میں مذہبی حلقوں کی مخالفت کے باوجود بھی ویلینٹائن ڈے منایا جا رہا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں اس حوالے سے کافی سرگرمیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔

default

پاکستان کے بڑے شہروں میں یوم محبت کے حوالے سےخصوصی تقریبات جاری ہیں۔محبت کے اظہار کے لیے تحائف، پھولوں ،کیک اور کارڈز کی خریداری زوروں پر ہے۔ بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کی وجہ سے پھولوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بہت سے گیسٹ ہاوسز، ریستورانوں اور ہوٹلوں میں یوم محبت کی تقریبات جاری ہیں ۔

Flash-Galerie Valentins Tag in Pakistan

پاکستان میں بھی یوم محبت منانے میں عوام پیش پیش ہے

لاہور میں گلبرگ کا علاقہ ان تقریبات کا بڑا مرکز بنا ہوا ہے، لبرٹی مارکیٹ کے ارد گرد دل کی شکل والے غبارے، پھول اور کارڈز بیچنے والوں کا رش لگا ہوا ہے۔ ایم ایم عالم روڈ کے کئی ریستورانوں میں بھی اس حوالے سے پروگرام ہو رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی، نیشنل کالج آف آرٹس اورکنیئرڈ کالج سمیت کئی تعلیمی اداروں میں بھی آج سوموار کے روز ویلینٹائن ڈے کی سرگرمیاں نمایا ں رہیں۔

مال روڈ پر واقع شہر کے ایک بڑے شاپنگ مال میں بھی ویلینٹائن میلے کا انعقاد کیاگیا ہے جہاں ویلینٹائن کے تحائف رعایتی نرخوں پر بیچے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ میں خصوصی نشریات چل رہی ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر محبت کرنے والے ناظرین کی طرف سے ایک دوسرے کے لیے محبت بھرے پیغامات چل رہے ہیں۔

Flash-Galerie Valentins Tag in Thailand Hochzeit

اس دن کے لیے لوگ اپنے پیاروں کو چاکلیٹ اور پھولوں کے تحائف خاص طور سے دیتے ہیں

لوگ اپنے چاہنے والوں کو پھول، کیک اور تحائف پیش کر رہے ہیں ، ڈیفنس لاہور کے ایک رہائشی نے اپنی بیوی کو پھولوں اور چاکلیٹوں سے بھری ہوئی قیمتی زیرو میٹر گاڑی تحفے میں دے کر ویلنٹائن ڈے منایا۔

صہیب نامی ایک نوجوان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ویلینٹائن ڈے ایک مغربی تہوار ہے اور اس موقعے پر کئی غیر اسلامی سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو دوسروں کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔ صہیب کے مطابق مراعات یافتہ لوگ ویلینٹائن ڈے جیسے تہواروں کو اپنی عیاشیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے بقول بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ ویلینٹائن ڈے منانے والے ربیع ا لاول کے مہینے کے تقدس کا بھی خیال نہیں کر رہے۔

صائمہ نامی ایک لڑکی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پریشانیوں اور مسائل سے بھری ہوئی آج کی زندگی میں ویلینٹائن ڈے جیسے دن غنیمت ہیں۔ ان کے مطابق پیار کرنا اور اپنے پیاروں کو تحائف دینا کوئی جرم نہیں اور اپنے چاہنے والوں سے اظہار محبت کرنے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کی رائے میں ویلینٹائن ڈے کو اسلامی تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہے۔

اشانہ ثاقب نامی ایک خاتون نے بتایا کہ ویلینٹائن ڈے کو صر ف رومانوی تصورات سے وابستہ کرنا ٹھیک نہیں ہے، ان کی رائے میں انسان اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بھی محبت کرتا ہے اور ویلینٹائن ڈے کے موقعے پر ایسے رشتوں کو یاد کرنا اچھا لگتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور پاکستان اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔

رپورٹ: تنویر شہزاد،لاہور

ادارت: افسراعوان

DW.COM