1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں نیٹو کے 54 ٹرکوں کو عسکریت پسندوں نے آگ لگادی

جمعرات کو شمال مغربی پاکستان میں دہشت گردی کے ایک تازہ واقع میں مبینہ عسکریت پسندوں نے افغانستان میں نیٹو افواج کے لئے سامان رسد لے جانے والے 54 ٹرکوں کو آگ لگا دی۔

default

یہ واقعہ صوبے خیبر پختونخوا کی تحصیل نوشہرہ میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب رات گئے پیش آیا۔ واقعے کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار بہروز خان کے مطابق: ’’قریبی پہاڑوں سے نامعلوم عسکریت پسند آئے، جن کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے سڑک پر کھڑے ایسے 80 ٹرکوں کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ ان میں سے 54 ٹرکوں کو آگ لگ بھی گئی، جو فائر بریگیڈ کے بعد میں وہاں پہنچنے والے کارکنوں کے قابو میں نہ آنے والی اس آگ میں پوری طرح جل گئے۔

David Petraeus NATO US Force Afghanistan

افغانستان میں بین الاقوامی دستوں کے امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

یہ ٹرک طورخم کی پاک افغان سرحد کھلنے کا انتظار کر رہے تھے، جو ایک ہفتہ پہلے نیٹو کے پاکستان کی حدود میں فضائی حملوں کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ نیٹو ہیلی کاپٹروں کے ان حملوں میں سے ایک میں دو پاکستانی فوجی جاں بحق اور چار زخمی بھی ہوگئے تھے۔

ان حملوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا تھا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بدھ کے روز پاکستان میں خاتون امریکی سفیر این پیٹرسن اور افغانستان میں بین الاقوامی دستوں کے امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے پاکستان سے اس واقعے پر معافی بھی مانگی۔ اخبار کے مطابق ان دونوں شخصیات کے بیانات میں کہا گیا ہے کہ 30 ستمبر کو ہونے والے اس فضائی حملے کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹروں کے پائلٹوں نے پاکستانی فوجیوں کو طالبان سمجھ کر ان پر حملہ کیا تھا، اور یہ اس کارروائی سے پہلے کی ناقص رابطہ سازی کا نتیجہ تھا۔

اسی دوران طورخم کی پاک افغان آج جمعرات کو بھی بند رہی اور نیٹو کو رسد پہنچانے والے ٹرکوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہ مل سکی۔ علاقے میں پاکستان کے نیم فوجی دستوں کے اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ انہیں ابھی تک نیٹو کے ٹرکوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت دینے سے متعلق کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے۔

Weltwirtschaftsforum Davos Syed Yousuf Raza Gillani

پاکستان نے اپنے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی ہمیشہ مذمت کی ہے

پاکستان نے اپنے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔ اس علاقے کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ وہاں طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند بڑی تعداد میں موجود ہیں، جو مبینہ طور پر سرحد پار کر کے افغانستان میں بین الاقوامی افواج پر حلمے بھی کرتے ہیں۔

پاکستان میں تین ستمبر سے اب تک 26 ڈرون حملے ہوچکے ہیں اور ان کے نتیجے میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ دہشت گرد تھے۔ اسی ہفتے پیر کو بھی پاکستانی قبائلی علاقے میں ایک عمارت پر ڈرون طیاروں سے دو میزائل داغے گئے تھے، جن کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں سے کم ازکم پانچ ترک نسل کے جرمن شہری بتائے جاتے ہیں۔

رپورٹ : سمن جعفری

ادارت : مقبول ملک

ویب لنکس