1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں نومولود بچوں کے قتل کا مسئلہ

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک اور قدرے روایت پسند معاشرے کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہاں بھی دیگر ملکوں کی طرف ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں، جن کی اُن کے والدین نے خواہش نہیں کی ہوتی۔

default

ایسے واقعات میں مائیں اکثر غیر شادی شدہ نوجوان خواتین ہوتی ہیں اور نومولود بچے پیدائش کے فورا بعد یا تو ہلاک کر دئے جاتے ہیں، یا پھر انہیں لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں اور اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق کنویشن کے تحت کی جانے والی کوششوں کے برعکس، یہ امر افسوسناک ہے کہ دیگر بہت سے ملکوں کی طرح پاکستان میں ایسے بچوں کی پیدائش، جن کی اُن کے والدین نے خواہش نہ کی ہو، یا پھر ایسے بچوں کی غیر شادی شدہ مائیں، دونوں کو ہی ممنوعہ موضوع تصور کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں سے ہر مہینے ایسے نومولود بچوں کی بہت سی لاشیں کوڑے کے ڈھیروں سے ملتی ہیں۔ سرکاری طور پر ایسے بچوں کے قتل کے واقعات کے کوئی اعدادوشمار بھی جمع نہیں کئے جاتے۔

پاکستان میں ایسے نومولود مقتولین کی تدفین اور لاوارث چھوڑ دئے جانے والے بچوں کی دیکھ بھال کا کام کرنے والا ایک بہت بڑا ادارہ بین الاقوامی شہرت کے حامل سماجی کارکن عبدالستار ایدھی اور اُن کی اہلیہ بلقیس ایدھی کی قائم کردہ وہ فاؤنڈیشن ہے، جو پورے ملک میں کام کرتی ہے۔

Indien: Kinderarbeit

جو بچے بچ بھی جائیں، ان کی دیکھ بھال کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی انتظام نہیں

ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت 1951 سے اب تک خود بلقیس ایدھی لاوارث چھوڑ دئے جانے والے قریب بیس ہزار نومولود بچوں کی جانیں بچا چکی ہیں، جبکہ ایسے بچوں کی وہ لاشیں جنہیں وہ اب تک اپنے ہاتھوں دفنا چکی ہیں، اُن کی تعداد اِس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

بلقیس ایدھی کہتی ہیں: "ایسے بچوں کی تعداد مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں روزانہ بیس سے لے کر تیس تک بچے ملتے ہیں، جن میں سے اکثر انتقال کر جاتے ہیں۔ صرف پانچ یا چھ ہی زندہ رہتے ہیں۔ جو لوگ ایسے بچوں کو مختلف جگہوں پر چھوڑ جاتے ہیں، وہ پلاسٹک بیگ استعمال کرتے ہیں، جن میں بند بچے دم گھٹنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے ایسے بچوں میں سے وہ جنہیں زندہ بچا تو لیا جاتا ہے، اُن میں سے بہت سے، بہت چھوٹی عمر میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ذہنی طور پر کسی نہ کسی ھد تک معذور بھی ہو جاتے ہیں۔"

ایدھی فاؤنڈیشن نے صرف کراچی میں چالیس اور پورے پاکستان میں 350 کے قریب ایسے مراکز قائم کر رکھے ہیں جہاں عام شہری اپنی شناخت کرائے بغیر ایسے بچے اس ادارے کے حوالے کر سکتے ہیں۔ اس کا واحد مقصد نومولود بچوں کے قتل کے واقعات کی روک تھام ہے۔ زندہ بچ رہنے والے ایسے بچوں کے بارے میں ایدھی فاؤنڈیشن کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں بے اولاد شہری گود لے لیں۔

پاکستان میں قتل کردئے جانے والے یا لاوارث چھوڑ دئے جانے والے ایسے بچوں میں دو تہائی سے زیادہ نومولود بچیاں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں اس پورے مسئلے پر تب تک قابو نہیں پایا جا سکتا، جب تک وہاں اس بارے میں کھل کر بات نہیں کی جاتی، اور حکومت اس معاملے کو ایک سماجی مو‌ضوع نہیں بناتی۔

رپورٹ : یُٹّا شَوینگز بیئر / ترجمہ : مقبول ملک

ادارت : عدنان اسحاق