1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ناظمین کا نظام ختم، ایڈمنسٹریٹرز تعینات ہوں گے

پاکستان کے چاروں صوبوں میں بلدیاتی نظام ایڈمنسٹریٹرز کے حوالے کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے اور اگست سے یہ نظام ایڈمنسٹریٹرز کے سپرد کر دیا جائے گا۔

default

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا ایک فائل فوٹو

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے چاروں وزراء اعلیٰ اور کئی اعلیٰ حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد مقامی حکومتوں کی معیاد میں توسیع سے انکار اور متعلقہ انتخابات فی الوقت ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حالات بہتر ہوتے ہی قومی اسمبلی کے زیر التواء ضمنی اور مقامی حکومتوں کے انتخابات کرا دئے جائیں گے۔

’’حکومت نے انتخابات کےلئے حالات سازگار ہونے تک ضمنی انتخابات ملتوی کر دیئے ہیں۔ عام انتخابات کےلئے راولپنڈی اور لاہور سے امیدواران نے لکھ کر بھیجا کہ حالات ابھی سازگار نہیں ہیں اس لئے عام انتخابات ابھی نہیں ہونے چاہیئں اس لئے انتخابات ملتوی کر دیئے ہیں۔‘‘

مبصرین کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے مقامی حکومتوں کے معاملات چلانے کےلئے سرکاری افسران کی بطور ایڈمنسٹریٹر تعیناتی کے اعلان سے اس نظام کی بساط کم از کم وقتی طور پر لپیٹ دی گئی ہے، جس کی بنیاد سابق صدر پرویز مشرف نے رکھی تھی اور جس کا بظاہر مقصد اپنے اقتدار کو دوام دینا تھا۔

اس نظام کے اجراء میں قومی تعمیر نو بیورو نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اس حوالے سے قومی تعمیر نو بیورو کے سابق چیئرمین دانیال عزیز نے اپنا ردعمل یوں بیان کیا:’’موجودہ حکومت کے پاس کچھ بھی نہیں ہے ان کی ریڑھی خالی ہے۔ حکومت نے صرف مقامی سطح پر خاص طبقے کو نوازنے کے لئے اور خاندانی سیاست کو آگے بڑھانے کے لئے یہ کیا ہے۔ یہاں پر عوامی رائے کی بجائے طاقت اور اختیارات بڑا پیمانہ گنا جاتا ہے۔ اگر کسی فرد واحد نے غلطی کی ہے تو اس کو ضرور پکڑا جائے، وہ چاہے ناظم ہو، ڈی سی ہو لیکن اس طرح پورے ملک سے 85000 منتخب نمائندوں کو ختم کر دینا یہ انتہائی درجے کی زیادتی ہے۔‘‘

خیال رہے کہ ابتداء ہی سے صوبائی اسمبلی کے ارکان اس نظام سے شاکی تھے کیونکہ مقامی حکومتوں کی باگ ڈور ناظمین کے پاس تھی اور انہیں صوبائی وزیر اعلیٰ کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا تھا۔ تاہم 2004ء میں مقامی حکومتوں کے لئے ہونے والے دوسرے انتخابات سے پہلے ہی خصوصا چوہدری برادران کے دباؤ کے تحت ناظمین کو وزیراعلیٰ کے ماتحت کر دیا گیا تھا تاکہ مقامی سطح پر ترقیاتی سکیموں کے لئے مالی وسائل کی تقسیم ایسے امور پر صوبے میں حکمران جماعت کے کنٹرول کو یقینی بنایا جا سکے۔

رپورٹ : امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر