1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں نئی حج پالیسی کا اعلان

نئی حج پالیسی کے تحت اس سال ایک لاکھ ستر ہزار پاکستانی عازمین حج حجاز مقدس جا سکیں گے۔ حج درخواستیں دس سے پچیس جون تک چھ مختلف بینکوں کی ملک بھر میں قائم شاخوں میں جمع کرائی جا سکیں گی۔

default

نئی حج پالیسی کے تحت پچاس فیصد حجاج سرکاری جبکہ پچاس فیصد پرائیویٹ حج ٹورز آپریٹرز کے ذریعے فریضہ حج ادا کریں گے۔ مذہبی امور کے وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی نے اسلام آباد میں سال 2010ء کے لئے حج پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایئرلائنز کے کرایوں اور سعودی عرب میں رہائش گاہوں کی قیمتیں بڑھ جانے کے سبب اس برس گزشتہ سال کے مقابلے میں حج پیکج میں19 فیصد اضافہ کیا گیا ہے''پی آئی اے کے کرایہ میں 6 ہزار روپے اضافہ ہوا ہے یہ وزارت حج کے دائرہ کار میں نہیں اس کے علاوہ اضافہ 400 سعودی ریال فی حاجی کے حساب سے مکہ میں رہائش کی مد میں بڑھانے پڑےکیونکہ باقی ممالک چار پانچ ہزار ریال تک پہنچ گئے تھے اور ہمیں گزشتہ سال کے ریٹ پر رہائشں گاہیں ملنا بہت مشکل نظر آ رہا تھا۔‘‘

سرکاری خرچ کے تحت کراچی اورکوئٹہ سے حاجی 2,26000/- ہزار روپے جبکہ ملک کے دیگر حصوں سے 2,38000/- روپے جمع کروا کر حج کر سکیں گے۔

Hadsch Pilgerfahrten 2008 Flash-Galerie

رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ حج ایسے مذہبی فریضے کو تجارت کے طور پراستعمال نہ کرے

سرحد میں ایم ایم اے کے سابق حکومتی ترجمان اور رکن صوبائی اسمبلی مفتی کفایت اللہ نے نئی حج پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا''موجودہ حکومت وی آئی پی پروٹوکول اور دیگر غیر ضروری اخراجات میں بچت کر کے حج پالیسی نرم بناتے اور لوگوں کےلئے آسانی پیدا کرتے تو اچھا ہوتا۔ لوگ حج پالیسی کا انتظار کرتے ہیں لیکن ہر نئی آنے والی حج پالیسی پاکستان کے مسلمانوں پر بجلی بن کر گرتی ہے۔‘‘

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز فریضہ حج کےلئے مقرر کردہ سرکاری خرچ سے کہیں زیادہ رقم وصول کرتے ہیں اور بعد ازاں عازمین حج سے ان کو ضروری سہولیات مہیا نہ کرنے کی شکایت بھی رہتی ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ حج ایسے مذہبی فریضے کو تجارت کے طور پراستعمال نہ کرے ''حج مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے اور اس کی ادائیگی میں درپیش مشکلات کم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔

Hadsch 2009 Galerie

حج پالیسی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں حج پیکج میں19 فیصد اضافہ کیا گیا ہے

اس سلسلے میں نئی حج پالیسی میں حج اخراجات میں اضافے کی جو تجویز دی گئی ہے اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے بجائے حکومت خود سارے معاملات سنبھالے جیسا کہ پہلے ہوتا تھا تو کوئی آسان حل نکل سکتا ہے‘‘

خیال رہے کہ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے حج کا نمبر چوتھا ہے اور ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضہء حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔

رپورٹ : شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق