1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان میں میچ فکسنگ:الزامات اور تحقیقات

دورہ آسٹریلیا میں شکست کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سنسنی خیزویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان کرکٹ میں ایک مرتبہ پھر میچ فکسنگ کا پینڈورا بکس کھل گیا ہے ۔

default

ویڈیو میں پاکستانی ٹیم کے دو سابق کوچزعاقب جاوید اورانتخاب عالم کی جانب سے وکٹ کیپر کامران اکمل پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرنے پر آئی سی سی بھی حرکت میں آگئی ہے ۔

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کے کھیل میں بدعنوانی کی روک تھام کے لئے قائم کئے گئے ادارے اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ پال کونڈن کے مطابق پاکستانی ٹیم کی دورہ آسٹریلیا میں شکست کی وہ تحقیقات کر رہے ہیں۔

واضح رہے اس سال جنوری میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی کرکٹ ٹیم سڈنی کا ٹیسٹ پہلی اننگز میں 206کی سبقت لینے کے باوجود ناقابل یقین انداز میں 36رنز سے ہار گئی تھی۔ کامران اکمل نے میچ میں سینچری میکر ہسی کے تین کیچ چھوڑنے کے علاوہ شین واٹسن کا آسان رن آؤٹ بھی ضائع کیا جس پر کوچ عاقب جاوید نے انکوائری کمیٹی کے روبرو کہا کہ کامران اکمل پر انہیں شک ہے کیونکہ گز شتہ بیس برس سے پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ ہو رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئر مین اقبال محمد علی کا کہنا ہے میچ فکسنگ کے الزامات اورکھلاڑیوں کے آئے روز ایک دوسرے کو نیچا دکھانےکی عادت سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے اور اب سخت کاروائی کی ضرورت ہے۔

ریڈیو ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے اقبال محمد علی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی سنگین صورتحال پر قائمہ کمیٹی کا اجلاس 24مئی کو اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے، جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے پاکستان کرکٹ میں اعلیٰ سطحیٰ تبدیلیوں کی سفارش کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کرکٹ کے کھیل سے والہانہ لگاؤ رکھتے ہیں اس لئے کھلاڑی گراؤنڈ پر جان بوجھ کر خراب کھیل کر انہیں بے وقوف نہیں بنا سکتے ۔

انہوں نے کہا کہ عوام، کرکٹرز کی کامیابی کے لئے دعائیں کرتے ہیں مگر ہمارے کھلاڑیوں کو عزت راس نہیں ہے۔ اقبال محمد علی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی موجودہ صورتحال میں برابر کا ذمہ ٹھہرایا اور کہا کہ اگر دورہ آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کے خلاف بروقت تادیبی کاروائی کی جاتی تو ہمیں ٹونٹی20ورلڈ کپ میں بھی شکست کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔

Danish Kaneria

پاکستانی کھلاڑی دانش کنیریا بھی میچ فکسنگ میں ملوث پائے گئے ہیں

اپنے ہم وطنوں پر میچ فکسنگ کے الزامات لگانے کے حوالے سے مشہور سابق کپتان ٹیسٹ کرکٹرسرفراز نواز کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی پاکستانی ٹیم کے خلاف میچ فکسنگ کی تحقیقات کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو گا،  وہ ماضی میں بھی کسی کو نہیں پکڑ سکی کیونکہ کھیل کی گورننگ باڈی کے پاس ایسا کرنے کے لئے ٹیکنیکل لوگ ہی نہیں۔

 سرفراز نواز کا کہنا تھا آسٹریلیا کے دورے سے پہلے پاکستانی ٹیم نے کئی میچز سری لنکا میں بھی جان بوجھ کر ہارے ۔ٹیم کے مینجر اور کپتان نے خود بی اعتراف کیا تھا کہ کولمبو کے اس ہوٹل میں جہاں پاکستانی ٹیم مقیم تھی وہاں بک میکرز نے کھلاڑیوں سے ملنے کی کوشش کی تھی۔

سرفرازنواز کا کہنا تھا کہ میں نے آئی سی ایل کے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں واپس نہ لینے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ ان کے بک میکرز کے ساتھ رابطے تھے تاہم کرکٹ بورڈ نے ایک نہ سنی اور بورڈ اب بھی کرکٹرزکے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سڈنی ٹیسٹ مشکوک تھا اور جوا گروپ میں ایک پاکستان کا سابق کپتان بھی ملوث ہے۔

پی سی بی کے سابق چیئر مین توقیر ضیاءکا کہنا ہے میچ فکسنگ کے الزامات لگانے والوں کو ثبوت سامنے لانے چاہیں وگرنہ ان آفیشلز کے خلاف کاروائی کی جائے جو شکست کا ملبہ کھلاڑیوں پر ڈالنے کے لئے ایسے الزامات کا سہارا لیتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی لیگ سپنر دانش کنیریا کی بھی گز شتہ ہفتے میچ فکسنگ کے الزامات کے تحت گرفتاری اور پھر ضمانت پر رہائی نے اس حوالے سے شبہات کو تقویت دی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ آسٹریلیا میں شکست اور نظم وضبط کی پاداش میں پاکستان ٹیم کے سات کھلاڑیوں کے خلاف حال ہی میں سخت کارروائی کی تھی، جس کے تحت چار کھلاڑیوں شعیب ملک، رانا نوید لحسن ، یونس خان اور محمد یوسف کو پابندی اور اکمل براداران اور کپتان آفریدی پر بھاری جرمانے عائد کئے گئے۔اس سے قبل 2000ء میں سابق کپتان سلیم ملک کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے پر ان پر تاحیات پابندی لگا دی گئی تھی۔

رپورٹ:طارق سعید ، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM