1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پاکستان میں مہنگائی کا جِن بوتل سے باہر آ گیا‘

پاکستان میں افراطِ زر کی بڑھتی شرح نے عوام کو کیسے متاثر کیا ہے، اس کا اندازہ سبزیوں اور پھلوں کے تاجر محمد فاروق کی کہانی سے ہوتا ہے۔ اسے ہر دِن کے اختتام پر سبزیوں اور پھلوں کی اچھی خاصی مقدار کچرے کی نذر کرنا پڑتی ہے۔

default

محمد فاروق نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پھل اور سبزیاں اس قدر مہنگی ہو چکی ہیں کہ یہ عوام کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ دِن کے اختتام پر بچ جانے والی سبزیاں اور پھل اسے پھینکنے پڑتے ہیں۔ فاروق کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اسے ہول سیلر سے مال ادھار پر اٹھانا پڑتا ہے۔

اس نے کہا، ’ہم اپنے منافع کا بڑا حصہ ضائع کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ حکومت مدد کرے۔ وہ ملک کے پیسے سے صرف اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔‘

افراط زر پاکستان کا واحد مسئلہ نہیں بلکہ مشکلات کی فہرست طویل ہے۔ ایک طرف طالبان کی انتہاپسندی ہے تو دوسری جانب غربت، بدعنوانی اور بجلی کے بحران کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے۔ تاہم مہنگائی کا مسئلہ بھی اسلام آباد حکومت کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک نے گزشتہ برس نومبر میں اپنے بنیادی پالیسی ریٹ بڑھا کر 14فیصد کر دیے تھے، جو چھ ماہ کے دوران ایسا تیسرا اضافہ تھا۔ اسٹیٹ بینک کو یہ فیصلہ افراط زر کی بڑھتی شرح کے تناظر میں کرنا پڑا، جس کی وجہ حکومت کی جانب سے مرکزی بینک سے قرضوں کا حصول بتائی جاتی ہے۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

گزشتہ برس کے سیلاب نے بھی پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا

اس صورت حال سے پاکستان میں عام آدمی ہی پریشان نہیں بلکہ ملکی معیشت کی ’لائف لائن‘ قرار دیا جانے والا مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف بھی صبر کھوتا جا رہا ہے اور اس نے ملک کی سیاسی قیادت کو سمجھوتہ نہ کرنے والی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ برس کے سیلاب نے بھی پاکستانی معیشت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے، جس کا تخمینہ 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ روئٹرز نے اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی دو ڈالر یومیہ سے بھی کم آمدنی پر گزارہ کر رہی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس