پاکستان میں مفلوج مجرم کی پھانسی ملتوی | حالات حاضرہ | DW | 22.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں مفلوج مجرم کی پھانسی ملتوی

فیصل آباد جیل حکام کے مطابق موت کی سزا کے منتظر مفلوج مجرم کی سزا کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ مجرم کے خاندان کو یہ اطلاح آج منگل کی صبح جیل حکام کی جانب سے دی گئی۔

پاکستانی صوبے پنجاب کے شہر فیصل آباد کی جیل میں عبدالباسط نامی مجرم کو آج منگل کی صبح میں دی جانے والی پھانسی آخری وقت میں ٹال دی گئی۔ جیل حکام کے مطابق ایک مجسٹریٹ نے عبدالباسط سے گفتگو کے بعد پھانسی ملتوی کرنے کا حکم دیا۔ ایک اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ مجسٹریٹ نے پھانسی کی سزا معطل کرنے کے حوالے سے کہا کہ مفلوج شخص کو پھانسی کیسے دی جائے، اِس بارے میں قانون خاموش ہے۔ جیل اہلکار محمد صفدر کے مطابق 43 برس کے عبدالباسط کو آج منگل کی صبح میں پھانسی کی سزا دی جانے والی تھی۔

فیصل آباد کی سینٹرل جیل کے باہر مجرم عبدالباسط کی بہن شگفتہ سلطانہ نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ اور بقیہ خاندان جیل کے باہر پھانسی کے بعد نعش کے منتظر تھے کہ انہیں بتایا گیا کہ سردست پھانسی کی سزا ملتوی کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب پاکستانی سپریم کورٹ نے کل پیر کے روز بھی عبدالباسط کی پھانسی کے خلاف حکم امتناعی کی درخواست خارج کر دی تھی۔

وہ سن 2009 سے پھانسی کی سزا کا منتظر ہے۔ اُس کی موت کی سزا پر عمل درآمد انتیس جولائی کو ہونا تھا، جو لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔ بعد میں اِسی عدالت نے عبدالباسط کی درخواست یہ کہہ کر رَد کر دی تھی کہ اُس کی معذوری کی وجہ سے اُس کی موت کی سزا پر عملدرآمد روکا نہیں جا سکتا۔

انسانی حقوق کے کئی ملکی اور غیر ملکی ادارے اسلام آباد حکومت سے اپیلوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے کہ عبدالباسط کی پھانسی کو روک دیا جائے۔ کل پیر کے روز ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستانی حکومت سے اپیل کی تھی کہ عبدالباسط کی پھانسی کو روک دیا جائے۔ اسی طرح گزشتہ جمعے کے روز امریکی شہر نیو یارک میں قائم انسانی حقوق کے واچ ڈاگ ادارے تنظیم ہیومن رائٹس واچ HRW نے بھی پاکستان سے اِس سزا کو منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ اِس ادارے کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ مفلوج شخص کو سزائے موت دینے کی بے رحمی کے ادراک کی بجائے عدالتی منصف اس پر الجھے ہوئے ہیں کہ وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے ایک شخص کو کس طریقے سے پھانسی دی جائے۔