1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستان میں مسلسل امریکی حملے: مایوسی یا حکمت عملی؟

رواں سال کے وسط سے ، افغانستان میں موجود امریکی افواج مسلسل پاکستانی علاقوں پر حملے کر رہی ہے۔ ان حملوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے پاس طالبان سے جنگ لڑنے کے لیے کوئی کار گر حکمت عملی نہیں ہے۔

default

امریکہ کی مایوسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی حکومت نے دھشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی کی حیثیت سے اربوں ڈالر کی امداد حاصل کی لیکن اس کے باوجود وہ اس خطرے کو دور نہیں کر سکی ہے۔‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ کے مسلسل حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے اعتیار سے متنازعہ ہے بلکہ یہ سیاسی طور پر بھی خطرناک ہیں۔ ان میں جتنے زیادہ شہری ہلاک ہو رہے ہیں، اسی قدر انتہا پسندوں کی حمایت ایں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن برلن، پیرس اور لندن کو واشنگٹن پر اعتراضات کرنے کی بجائے بالآخر کثیر القومی اسلامی عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کے لیے ایک کار گر حکمت عملی تشکیل دئیے جانے پر غور کرنا چاہیے۔ مزید اسی سلسلے میں پاکستان پر پہلے سے زیادہ توجہ دینا چاہیے کیونکہ امریکی حملے، مایوسی اور فکری انتشار کا نتیجہ ہیں۔

امریکی مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ دو ہزار دو ء کے بعد سے مغرب کی مخالف شدت پسندی کو افغانستان سے ملحقہ پاکستانی سرحدی قبائلی علاقے میں دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا ہے، جہاں سے وہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں اور افغان فوج ، پولیس اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور افغانستان کی تعمیر نو کے کام میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

Pakistanische Stammesangehörige nach einer möglichen US Raketenattacke

قبائلی علاقے میران شاہ میں چند مقامی لوگ اپنے تباہ شدو گھر کو دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ گھر مبینہ امریکی میزائیل حملے کا نشانہ بنا ہے۔

امریکہ کو اس پر بھی مایوسی ہے کہ پاکستانی حکومت نے دھشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی کی حیثیت سے اربوں ڈالر کی امداد حاصل کی لیکن اس کے باوجود وہ اس خطرے کو دور نہیں کر سکی ہے۔

انہی وجوہات کی بناء پر رواں سال موسم گرما سے امریکہ کے رویے میں سختی آگئی ہے۔ اگر پاکستان فوج اور حکومت اس پراحتجاج کرتی ہے تو یہ ایک ناٹک ہے کیونکہ جہاد کا نعرہ لگانے والوں کےقریب ترین رفقاء اسلام آباد میں خفیہ سروس آئی۔ ایس ۔آئی میں موجود ہیں۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری یہ جانتے ہیں کہ طالبان کی حکومت کو بہت کم پاکستانی پسند کرتے ہیں ان میں سے اکثر مختلف وجوہات کی بناء پر امریکہ سے دلی نفرت کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے پاکستان کے دفاع کے حوالے سے دئیے جانے والے شعلہ انگیز بیانات بہت من پسند ہیں۔ تا ہم شدت پسندی اور دھشت گردی ایک عرصے سے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

جرمن وزیر خارجہ شٹائن مائر کا یہ کہنا بجا ہے کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانا بہت ضروری ہے تا کہ یہ لرزہ براندام ایٹمی طاقت ڈھیر نہ ہوجائے۔ تا ہم اسلام آباد کو کثیر القومی شدت پسندی اور دھشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر طور سے شامل کرنا بہت ضروری ہےصرف بغیر پائلٹ کے امریکی طیاروں اور لڑاکا طیاروں سے بمباری اسلم کے نام پر کی جانے والی دھشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے کارگر حکمت عملی نہیں ہے۔