1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں مزید چھ مجرمان کو پھانسی

پاکستان میں جمعرات کے روز قتل کے مزید چھ مجرمان کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ مسلسل تیسرا روز ہے کہ جب مختلف مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان چھ افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کے ساتھ ہی پاکستان میں گزشتہ برس دسمبر سے اب تک تختہء دار پر لٹکائے جانے والے مجرموں کی مجموعی تعداد 240 سے زائد ہو گئی ہے۔

دسمبر میں پشاور میں ایک اسکول پر حملے میں 150 سے زائد طلبہ اور اساتذہ کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے تنقید اور مذمت کے باوجود پاکستانی حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

جمعرات کے روز لاہور، راولپنڈی، ملتان اور ڈیرہ غازی خان کی جیلوں میں ان چھ مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں ڈیرہ غازی خان میں قتل کے مقدمے کے دو مجرم بھائی بھی شامل ہیں جب کہ دو مجرموں کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اور ایک ایک کو لاہور اور ملتان میں پھانسی دی گئی۔ ان پھانسیوں کی تصدیق پاکستانی حکام کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے۔

Zentralgefängnis in Karachi Pakistan - Hinrichtung 13.01.2015

ملک میں مختلف جیلوں میں درجنوں افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے

یہ بات اہم ہے کہ پشاور میں پاکستانی فوج کی زیرنگرانی چلنے والے ایک اسکول پر حملے میں 150 افراد مارے گئے تھے، جن میں زیادہ تر تعداد بچوں کی تھی اور اس واقعے پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کی تھی جب کہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پورے ملک میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد چھ سالہ پابندی بھی اٹھا لی گئی تھی۔ منگل کے روز پاکستان میں آٹھ جب کہ بدھ کو پانچ افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔

پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صرف اسی طریقے سے ملک سے عسکریت پسندی اور شدت پسندی کا خاتمہ ممکن ہے، تاہم اس سزا پر عمل درآمد کے مخالفین کا موقف ہے کہ ملک میں موجود کمزور نظامِ انصاف کی موجودگی میں شفاف انداز سے مقدمات کا فیصلہ ممکن نہیں، اس لیے کسی ملزم کو ایسی کڑی سزا دینے سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔