1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں متعدد ویب سائٹس پر پابندی، عوامی رائے

پاکستانی حکام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پابندی کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اب ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر ویب سائٹس پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

default

ایک مقامی مذہبی سیاسی تنظیم کے کارکنان مظاہرے کے دوران

جمعرات کے روز پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں پیغبر اسلام کے ہتک آمیز خاکوں کی اشاعت کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ایک مختصر حکم میں پیغمبر اسلام کے خاکوں پر مبنی ایک فیس بک پیج کے ختم نہ کرنے پر فیس بک کو پاکستان میں بلاک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستان میں یوٹیوب کے علاوہ وِکی پیڈیا کو بھی محدود کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ فیس بک کے ایک پیج پر لوگوں کو پیغمبر اسلام کے خاکوں پر مبنی ایک مقابلے میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی تھی۔

پاکستان میں فیس بک خاصی مقبول ہے۔ پاکستان میں اس ویب سائٹ کے صارفین کی تعداد دو سے تین ملین کے قریب ہے۔ تاہم زیادہ تر طلباء پاکستان میں اس سائٹ کی بندش کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہمدرد یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت میں کہا کہ جب معاملہ کسی شخص کے مذہبی عقائد پر ضرب پڑنے کا ہو، تو وہ مشتعل ہو ہی جاتا ہے۔

Pakistan YouTube-Internetseite blockiert

پاکستان میں یو ٹیوب پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے

’’خصوصاً ہمارے پیغمبر پر، سو حکومت نے جو کچھ کیا، ہم بھرپور طریقے سے اس کے ساتھ ہیں۔‘‘

ایک طالب علم نے کہا:’’یہ اچھا قدم ہے کہ حکومت نے یہ سائٹ بند کر دی لیکن پاکستان کو کوئی اپنی کمیونٹی ویب سائٹ شروع کرنی چاہئے، جسے تمام پاکستانی استعمال کر سکیں۔‘‘

لیکن پاکستان میں اس حوالے سے ایک دوسرا مکتبہء فکر بھی موجود ہے، جو اس پابندی کو مناسب نہیں سمجھتا۔ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم ایک انجینیئر سید علی عباس زیدی نے پاکستان میں اس پابندی کے حوالے سے فیس بک پر ایک گروپ بنایا ہے، جس کا نام ہے ’’پاکستان میں آن لائن رائے کا تحفظ‘‘۔

’’فیس بک بےشمار پاکستانی اچھے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک پر اسلام کی حمایت کرنے والے متعدد صفحات موجود ہیں، جن کے ممبران کی تعداد کئی ملین ہے۔ میرا ایک دوست خود ایسا ہی ایک صفحہ چلاتا ہے، جس پر وہ اسلام کے حوالے سے مثبت پیغامات شائع کرتا ہے۔ اسی طرح میں نے اور میرے دوستوں نے فیس بک پر بہت سے اچھے کام کئے ہیں۔ ہم نے وہاں لوگوں کی مدد، انسانیت کی مدد کے لئے کام کیا ہے۔ اس لئے آپ کو ایک خراب شخص کی وجہ سے پورے گاؤں کو نہیں جلا دینا چاہئے۔‘‘

سید علی عباس کا کہنا ہے کہ فیس بک کی کسی پیج کو بند کرنے کی پالیسی بہت جانبدارانہ ہے:’’جنرل مشرف کی طرف سے ہنگامی حالت کے نفاذ اور میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے میں نے ایک پیج بنایا تھا۔ اس کے دس ہزار ممبرز تھے مگر فیس بک نے اسے بند کر دیا۔ فیس بک کی جانب سے مجھے پیغام ارسال کیا گیا کہ آپ کا صفحہ نفرت اور اشتعال پھیلانے والے مضامین پر مبنی ہے۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے۔ اب جب کہ دنیا بھر کے کئی ملین افراد اس صفحے کے خلاف رپورٹ کر رہے ہیں، تو فیس بک نے اسے بند نہیں کیا۔‘‘

فیس بک پر اس تنقید کا آغاز اس کے ایک ممبر کی جانب سے ’خاکوں کے دن‘ کے نام سے ایک پیج بنانے کے بعد شروع ہوا۔ اس پیج کی ابتدا امریکہ میں ’’ساؤتھ پارک‘‘ سیریز کےکارٹونسٹوں کو مسلمانوں کے ایک گروہ کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد ہوئی۔

رپورٹ:تھوماس بیرتھلائن / ترجمہ : عاطف توقیر

ادارت: امجد علی

DW.COM