1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں ماورائے عدالت ہلاکتیں، ایک لمحہ ء فکریہ

پاکستان میں ماورائے عدالت ہونے والی ہلاکتوں کو اکثر ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم حال ہی میں ہونے والے اس واقعہ نے اس بحث کو مزید گرما دیا ہے۔

default

نسلی، سیاسی، مذہبی اور لسانی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے کراچی میں تعینات دس ہزار رینجرز کے اہلکار وزارت داخلہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اگرچہ پاکستانی صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں قتل کی واردات کوئی انوکھی بات نہیں ہے تاہم سرفراز شاہ کی موت نے اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو بھی اس حوالے سے آشکار کر دیا ہے۔

پاکستانی نجی ٹیلی وژن چینلوں پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں کلین شیو نوجوان سکیورٹی اہلکاروں کے سامنے رحم کی اپیل کرتے کرتے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے قتل کی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد حقائق سامنے آئے اور قانونی کارروائی شروع کی گئی۔

Gewalt in Pakistan Paramilitärs in Quetta

پاکستانی حکام کے بقول شہری علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے رینجرز کو تعینات کرنا ضروری ہے

سپریم کورٹ کے حکم پر سرفراز شاہ کے قتل کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے صوبہ سندھ کے پولیس اور رینجرز کے سربراہان کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا اور قتل میں مبینہ طور پر ملوث چھ سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف قتل کے مقدمے کا آغاز کر دیا گیا۔

دوسری طرف پاکستانی حکام کوئٹہ میں ہلاک کر دیے جانے والے ان پانچ چیچن باشندوں کے بارے میں بھی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھی۔ اسی طرح 2009ء میں پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں طالبان کی بغاوت کو کچلنے کے لیے شروع کیے گئے عسکری آپریشن کے دوران بھی ماورائے عدالت سینکڑوں ہلاکتوں کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کا کام کرنے والے رینجرز شہری علاقوں میں اپنی خدمات اس لیے بھی نہیں نبھا سکتے کیونکہ ان کی اس حوالے سے تربیت نہیں کی جاتی۔ ہیومن رائٹس واچ سے منسلک زہرا یوسف کہتی ہیں،’ پیرا ملٹری دستے سمجھتے ہیں کہ وہ صرف فوج کے سامنے جوابدہ ہیں جبکہ شہری ادارے کم تر ہیں، یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پیرا ملٹری دستوں کو شہری علاقوں میں تعینات کیے بغیر گزارا ممکن نہیں ہے تو ان کی انسانی حقوق کے حوالے سے بنیادی تربیت ناگزیر ہے۔

Pakistan Polizeisperre in Islamabad

پاکستان میں پولیس اہلکاروں کی کل تعداد ساڑھے تین لاکھ بنتی ہے، یعنی پانچ سو افراد کے لیے ایک پولیس اہلکار

کراچی میں 16 ملین کی آبادی سکونت پذیر ہے۔ حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس بڑے شہر میں سکیورٹی کو یقینیبنانے کے لیے رینجرز کے تعینات کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ کراچی میں پولیس اہلکاروں کی کل تعداد 28 ہزار بتائی جاتی ہے، پولیس کی اتنی کم تعداد اس بندگاہی شہر میں قانون نافذ کرنے کے حوالے سے خدمات سر انجام دینے سے قاصر ہے۔ ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ شہری علاقوں میں رینجرز کی تعیناتی مختصر وقت کے لیے کی جائے گی تاہم انتظامی ضروریات کے تحت اب دو عشروں سے یہ اہلکار شہری علاقوں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان میں پولیس اہلکاروں کی کل تعدادساڑھے تین لاکھ بنتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ پانچ سو افراد کی حفاظت کے لیے صرف ایک پولیس اہلکار ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس