1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں قید بھارتی شہری گوپال داس کی رہائی

پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے اُس بھارتی شہری کو آزاد کرنے کے پروانے پر دستخظ کر دیے ہیں، جو گزشتہ تئیس برس سے پاکستانی جیل میں قید تھا۔ صدر زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔

default

پاکستانی صدر زرداری اور بھارتی وزیر اعظم سنگھ

اتوار کے دن فرحت اللہ بابر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ کی اپیل کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر پاکستان کو مشورہ دیا کہ بھارتی شہری گوپال داس کو رہا کر دیا جائے اور صدر پاکستان نے ان کی رہائی کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

فرحت اللہ بابر کے بقول بھارتی شہری گوپال داس کی سزا مکمل ہو جانے کے بعد رواں برس کے اواخر میں اسے رہا کر دیا جانا تھا۔ اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گوپال داس کس جرم میں سزا کاٹ رہا تھا۔ تاہم لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ گوپال داس پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بھارتی شہری اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں ہی قید ہے۔ اسے جون 1987ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔

Der indische Premierminister Manmohan Singh

پاکستانی وزیر اعظم گیلانی اپنے بھارتی ہم منصب سنگھ کے ہمراہ

پریس ٹرسٹ آف انڈیا PTI کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے رواں ماہ کے آغاز پر حکومت پاکستان سے اپیل کی تھی کہ گوپال داس نامی اس قیدی کو انسانی بنیادوں پر رہا کر دیا جائے۔ پی ٹی آئی نے گوپال داس کے گھر والوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گوپال داس کی رہائی کی خبر سننے کے بعد بہت خوش ہیں۔ داس کے بھائی اننت ویر نے کہا،’ تمام گھر والے بہت خوش ہیں۔ میں اپنی خوشی کو بیان نہیں کرسکتا ہوں‘۔

گزشتہ طویل عرصے سے پاکستان میں قید گوپال داس کی رہائی کے حکم نامے پر ایسے وقت میں دستخط کیے گئے ہیں، جب بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پاکستانی صدر اور وزیر اعظم کو دعوت دی کہ وہ موہالی میں کھیلے جا رہے عالمی کپ کرکٹ مقابلوں کے دوسرے سیمی فائنل کو دیکھنے کے لیے بھارت کا دورہ کریں۔ یہ میچ بدھ کے دن پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے مابین کھیلا جائے گا۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپنے بھارتی ہم منصب کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM