1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں قومی عدالتی کمیشن کا ابتدائی اجلاس

پاکستان میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کیے گئے قومی عدالتی کمیشن نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے۔

default

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

اس کمیشن کا اولین اجلاس ہفتے کے روز چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیشن کا سیکرٹری سپریم کورٹ کا رجسٹرار، یا چیئرمین کی طرف سے مقرر کیا گیا فرد ہوگا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں ججوں، جبکہ وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی آسامیوں پر تقرری کے لیے نام چیف جسٹس آف پاکستان تجویز کریں گے۔ اسی طرح وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کے لیے متعلقہ چیف جسٹس نام تجویز کر کے کمیشن کے چیئرمین کو بھجوائیں گے۔ عدالتی کمیشن کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اپنے کام کی انجام دہی کے لیے مطلوبہ معلومات اور ریکارڈ کے علاوہ کسی بھی اتھارٹی کو طلب کر سکتا ہے۔ کمیشن کا سیکرٹری ججوں کے تجویز کردہ نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائے گا۔

Pakistanisches Parlament

"سپریم کورٹ نے اٹھارویں ترمیم میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے پارلیمنٹ ان کا مناسب طریقے سے جائزہ لےگی۔'': افتخارمحمد چوہدری

قبل ازیں عدالتی کمیشن کے اجلاس سے خطاب میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی ہیں کہ ہم کس طرح آئین کے ساتھ اپنی وابستگی کو ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیشن کے ارکان اجتماعی دانش کے تحت بہتر ججوں کا انتخاب کریں گے۔چیف جسٹس نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا، ‘‘سپریم کورٹ نےدلائل کی بنیاد پر اٹھارویں ترمیم میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے جن مشکلات، خامیوں اور تحفظات کا اظہار کیا ہے پارلیمنٹ ان کا مناسب طریقے سے جائزہ لےگی''

اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالتی کمیشن کے ذریعے ججوں کی تقرری پاکستان کی پارلیمانی اور عدالتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی کے عمل میں شفافیت آئے گی۔بابر اعوان نے کہا،" آرٹیکل 175 اےکے تحت آپ کی منتخب پارلیمنٹ نےجو طریقہ بنایا ہے لوگ اس کی مثال دیں گے اور دنیا میں فیصلے سناتے وقت اس پر بحث ہوگی اور بہت سے ممالک اس پر عمل بھی کریں گے کیونکہ شفافیت کے لیے جتنے بھی متعلقہ ادارے یا افراد ہیں ان کی رائے بنیادی شرط ہے اور یہ کمیشن اس شرط کو پوری کرتا ہے۔"

بابر اعوان نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھارویں آئینی ترمیم پر نظرثانی کے لیے پارلیمنٹ کو بھجوائی گئی سفارشات کی منظوری کے لیے آئین میں انیسویں ترمیم کرنا پڑے گی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ13 دسمبر سے دوبارہ فعال ہو جائے گی۔ دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ عدالتی کمشن کے قواعدو ضوابط سے اندازہ ہوتا ہے کہ اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے حوالےسےحکومتی عمل دخل کے مقابلے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کردار غالب ہے۔

رپورٹ : شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت : افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس