1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں قابل ججوں کی کمی، نئی بحث کا آغاز

پاکستانی چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی جانب سے ملک میں قابل ججوں کی کمی کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیان کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں کئی ماہرین قانون اور سابق جج صاحبان چیف جسٹس کی رائے سے متفق بھی ہیں۔

یہ ماہرین چیف جسٹس جمالی کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ملکی نظام تعلیم کا معیار تنزلی کا شکار ہے۔ تاہم ان کی رائے میں قابل ججوں کی کمی کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کراچی میں منعقدہ نیشنل راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی تقرری میں ناکافی قابلیت بڑی رکاوٹ ہے۔ مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث امیدواروں کی بطور جج تقرری میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں قابل ججوں کی تعداد کم ہے اور اداروں کو نئے خون، نئی سوچ اور نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے مزید کہا کہ مسائل حل کرنے کے لیے ججوں کو اپنی سوچ میں تبدیلی اور زیادہ دیانتداری لانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے ججوں اور وکلاء کے لیے انگریزی کے کورس کو لازمی قرار دیا جائے۔

تعلیمی معیار کی تنزلی کی ایک مثال دیتے ہوئے پاکستان کے چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اسکالرشپ کے لیے 250 امیدواروں کی درخواستیں موصول ہوئیں، مگر ان میں سے صرف ایک امیدوار انگریزی کا امتحان پاس کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی جوڈیشل اکیڈمیاں ریٹائرڈ ججوں کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں تا کہ وہ بند نہ ہوں۔

چیف جسٹس جمالی نے کہا، ’’2005 میں جب میں سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تھا، ماتحت عدالتوں میں بہت سی خالی اسامیوں کے لیے 3000 درخواستیں موصول ہوئی تھیں مگر معیار کی قربانی دینے کے باوجود صرف 74 اسامیاں پر ہو سکی تھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وکلاء میں بھی دو واضح طبقات نظر آتے ہیں، ایک وہ جو شوق اور لگن سے پیشے کو اپناتے ہیں اور دوسرے وہ جو صرف نوکری کرنے آتے ہیں۔

چیف جسٹس کے اس بیان پر سپریم کورٹ کے سابق جج وجیہ الدین احمد نے ڈوچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی یہ بات درست ہے کہ معیار تعلیم تنزلی کا شکار ہے بلکہ تباہ ہوگیا ہے۔ ہماری سوسائٹی ’وڈیرہ سوچ‘ کی حامل ہے اور موجودہ نظام خود تعلیم کا دشمن ہے۔

انہوں نے کہا، ’’انگریزی زبان کے حوالے سے چیف جسٹس کے بیان پر صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ایک طرف تو وہ خود عدالتی نظام میں اردو کو متعارف کرانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ججوں کے لیے انگریزی زبان کے کورسز کے اہتمام کی تجویز دے رہے ہیں۔ اگر عدالتی نظام میں اردو متعارف کرائیں گے تو پھر مقامی زبانوں کا معاملہ بھی آئے گا، جیسا کہ سندھی کا۔‘‘

اس بارے میں سابق وزیر قانون خالد رانجھا کہتے ہیں، ’’چیف جسٹس صاحب پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ نظام عدل اردو میں رکھنا چاہتے ہیں یا انگریزی میں۔ ملک کا قانون انگریزی میں ہے۔ نوجوان وکلاء بیرون ملک سے تعلیم انگریزی میں حاصل کر کے آتے ہیں۔ اور اگر عدلیہ کی زبان اردو ہو گی، تو بہت مشکلات پیدا ہوں گی۔ تاہم یہ بات درست ہے کہ ججوں کو تربیت کی ضرورت ہے۔ ججوں کی تعیناتی سے قبل اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ انہوں نے لاء کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر انگریزی زبان سے آگہی حاصل کی ہے یا نہیں۔‘‘

خالد رانجھا کے مطابق ججوں کے امتحانات بھی ہونے چاہییں، جیسا کہ سول سروس میں ہے۔ کم از کم جج کے عہدے کے لیے امیدوار کو انگریزی میں مضمون لکھنے کی صلاحیت کا حامل تو ضرور ہونا چاہیے۔

دوسری طرف ممتاز ماہر قانون اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سابق جج خواجہ نوید ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس کے ریمارکس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے منصب کو مدنظر رکھتے ہوئے ’میں کھل کر بات نہیں کر سکتا، البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ سندھ خصوصاﹰ دیہی علاقوں کے جج اردو اور سندھی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ انگریزی سے بہت اچھی طرح واقف نہیں ہوتے۔ ججوں میں قوت فیصلہ کی بھی بہت کمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ عدالتی نظام سے خوش نہیں ہیں۔ تبدیلی کی بہت ضرورت ہے۔ ججوں کو زیادہ سے زیادہ ریفریشر کورسز کرانے چاہییں تا کہ وہ فیصلہ لکھتے وقت 1898 کے قانون کو سامنے نہ رکھیں۔‘‘