1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں فوج کو اقتدار پر قبضے کا مشورہ دینے والے گرفتار

پاکستان میں دو افراد کو فوج کو جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور اقتدار پر قبضہ کرنےکے مشورے دینے والے دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ان افراد کو ملک کے دو مختلف حصوں میں چھاپے مار کر وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کو غیرآئینی طور پر ختم کرنے کے مشورے دینے کے الزام میں گزشتہ کچھ روز کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔

جوہری طاقت کے حامل 190 ملین آبادی کے ملک پاکستان میں اقتدار ایک طویل عرصے تک وقفے وقفے سے فوج ہی کے ہاتھ میں رہا ہے اور یہ ملک جمہوریت اور آمریت کے درمیان ایک مسلسل کھینچا تانی کا شکار رہا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی سابقہ حکومت بھی سن 1999ء میں فوجی جنرل پرویز مشرف نے ختم کر دی تھی، تاہم وہ سن 2013ء میں ایک مرتبہ پھر انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت کر وزیراعظم بنے۔ یہ بات اہم ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان تناؤ وقفے وقفے سے دیکھنے میں آتا رہتا ہے اور فریقین کے درمیان فوجی مداخلت کا موضوع ہمیشہ سے ہی حساس نوعیت کا رہا ہے۔

Pro Armee Banner Pakistan

فوج نے ان بینرز سے لاتعلقی کا اظہار کیا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جمہوری حکومت کو کمزور کرنا فوج کی منشا ہو سکتی ہے

یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں ہوئیں ہیں، جب ملک کے تیرہ شہروں میں ایسے پوسٹر اور بینرز دیکھنے میں آئے، جن پر ملکی فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف، جنہیں رواں برس نومبر میں اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو جانا ہے، سے کہا گیا تھا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لیں اور عہدہ نہ چھوڑیں۔

پاکستانی فوج کے ایک ترجمان نے ان پوسٹروں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی جانب سے شیڈول کے مطابق رواں برس نومبر میں اپنے عہدے سے سبک دوش ہونے کا اعلان تبدیل نہیں ہو گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس نے پیر کے روز شمال مغربی علاقے بنوں سے محمد اسلم خان کو حراست میں لیا، کیوں کہ اس نے اپنے علاقے کے لوگوں سے رائے طلب کی تھی، جس میں لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہیں یا فوج کو اقتدار پر قبضہ کر لینا چاہیے۔

بنوں پولیس کے سربراہ قاسم علی نے روئٹرز سے بات چیت میں کہا کہ خان کو نقص عامہ میں خلل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ’’ہم کسی کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ آزاد عدلیہ کی موجودگی میں ایسی حساس سرگرمی میں شامل ہو، جس میں ایک طرف جمہوری حکومت اور دوسری جانب فوج کو ملوث کرنے کی کوشش کی جائے۔‘‘

گزشتہ ہفتے اسی نوعیت کی ایک چھوٹی سی تنظیم موو آن پاکستان کے سربراہ محمد کامران کو بھی دارالحکومت اسلام آباد میں حراست میں لے لیا گیا تھا، اس شخص نے ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے پوسٹر لگائے تھے، جن میں جنرل راحیل شریف سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنا عہدہ نہ چھوڑیں اور اقتدار پر قبضہ کر لیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق کامران سے تفتیش جاری ہے۔