1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں ’فحش ویب سائٹس‘ کے لنکس غیرمؤثر

حکومت پاکستان نے پورنوگرافی والی لاکھوں ویب سائٹس تک رسائی کو بند کر دیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’فحاشی‘ پھیلانے والی ان ویب سائٹس پر پہلے ہی سے پابندی عائد تھی۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھبیس جنوری بروز منگل سے ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ پاکستان میں پورنوگرافی والی ان ویب سائٹس پر پہلے سے ہی پابندی عائد تھی لیکن اس پابندی کا مؤثر اطلاق نہ ہونے کے باعث ایسی انٹرنیٹ سائٹس تک رسائی آسان بات تھی۔

پی ٹی اے کے ترجمان خرم مہران نے ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’تقریباﹰ پچاس لاکھ ویب سائٹس کے تمام لنکس کو ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔‘‘

ان ’فحش‘ ویب سائٹس کے لنکس کو غیر مؤثر کرنے کے نتیجے میں اب مبینہ طور پر ان ویب سائٹس تک رسائی ممکن نہیں رہے گی۔

پاکستانی سپریم کورٹ نے پی ٹی اے کو دو ہفتے قبل حکم جاری کیا تھا کہ وہ ’فحش ویب سائٹس‘ کے تمام لنکس ڈاؤن کر دے۔ مہران نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے یہ حکم ایک عدالتی فیصلے کی صورت میں جاری کیا تھا۔

مہران نے مزید کہا، ’’اب ہم اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی بھی فحش مواد تک رسائی حاصل کرنے کے قابل نہ رہے۔‘‘

Indien Pornografie im Internet (Symbolbild)

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’فحاشی‘ پھیلانے والی ان ویب سائٹس پر پہلے ہی سے پابندی عائد تھی

ابھی حال ہی میں بھارت نے بھی پورنو ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ڈیجیٹل حقوق کے حامی کارکنان کی طرف سے دباؤ کے نتیجے میں اس کوشش کو ترک کر دیا گیا تھا۔

پاکستانی حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی ملک میں ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان میں یو ٹیوب پر تین سال تک پابندی عائد رہی تھی۔