1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں غیرت کے نام پر 675 خواتین قتل

پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں غیرت کے نام پر کم از کم 675 خواتین کو قتل کر دیا گیا۔

default

انسانی حقوق کے اس ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے یہ اعدادوشمار خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں رواں برس جنوری سے ستمبر کے دوران ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے دسمبر کے دوران پیش آنے والے واقعات کی معلومات فی الحال ترتیب دی جا رہی ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اہلکار کی جانب سے دیے گئے ان اعدادوشمار سے قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جنہیں اکثر دوسرے درجے کے شہری خیال کیا جاتا ہے اور وہاں گھریلو تشدد کے خلاف کوئی قانون بھی نہیں ہے۔

ایچ آر سی پی کے اس اہلکار کے مطابق رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران قتل کی گئی خواتین میں سے کم از کم اکہتر کی عمریں اٹھارہ سال سے کم تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ستمبر تک قتل کی گئی عورتوں میں سے تقریباﹰ ساڑھے چار سو پر ’ناجائز تعلقات‘ کا الزام تھا جبکہ ایک سو انتیس کو اپنی مرضی سے شادی کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض عورتوں کو قتل سے پہلے انہیں جنسی زیادتی یا پھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

Prostitution in Pakistan

ساڑھے چار سو کے قریب خواتین کو ناجائز تعلقات رکھنے کے الزام پر قتل کیا گیا

کم از کم انیس خواتین کو ان کے بیٹوں نے قتل کیا، انچاس اپنے اپنے والد کے ہاتھوں جان سے گئیں جبکہ ایک سو انہتر کو ان کے شوہروں نے مار دیا۔

گزشتہ برس اس کمیشن نے غیرت کے نام پر ہونے والی سات سو اکانوے ہلاکتوں کی رپورٹ دی تھی۔ اس تناظر میں اس اہلکار کا کہنا ہے کہ رواں برس بھی ان ہلاکتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہو گا۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق قتل کے نام پر قتل کی وارداتوں کے حوالے سے کسی حد تک پیش رفت کے باوجود حکومت کو خواتین کے قتل کے مرتکب افراد کو سزائیں دینے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس اکثر اوقات ایسے مقدمات کو نجی اور خاندانی امور قرار دیتے ہوئے خارج کر دیتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / اے ایف پی

ادارت:عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس