1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں غربت کی چکی اور پستے ہوئے لوگ

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بےروزگاری، مہنگائی اور ناخواندگی عوامی زندگی کے سب سے بڑے مسائل میں شمارکیے جاتے ہیں۔

default

ملک میں آئے روز کے دہشت گردانہ حملوں، بین الاقوامی مالیاتی بحران اور ملکی معیشت کو درپیش شدید نوعیت کی مشکلات کی وجہ سے پاکستان کی مجموعی آبادی میں غریب شہریوں کے تناسب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران وفاقی حکومت نے ملک سے غربت کے خاتمے کے مختلف منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر چھ سو اکیاون بلین روپے خرچ کئے۔ یہ رقم ایک سال پہلے اسی عرصے کے مقابلے میں محض پانچ اعشاریہ تین فیصد زیادہ ہے۔ پاکستانی وزارت خزانہ کے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران غربت کے خاتمے کے صرف ایک پروگرام، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے بجٹ میں کُل ستر بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

ان اور ایسی ہی دیگر حکومتی کوششوں کے باوجود پاکستان کی کل ایک سو ستر ملین سے زائد کی آبادی میں گزشتہ برسوں میں غربت میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔ پاکستان میں عام شہری غربت کی چکی میں کتنی بری طرح پس رہے ہیں، اس کی ایک مثال راولپنڈی کی رہنے والی ایک خاتون ہاجرہ بی بی کی بھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اخراجات پورے ہی نہیں ہوتے، نہ تو اسکولوں کی فیسیں دی جا سکتی ہیں اور نہ ہی گھروں کے کرائے، سودا خریدنے جائیں تو ہر چیز کو آگ لگی ہے غریب اس دور میں نہ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے۔

پاکستان میں غربت کے خلاف جنگ اب تک کتنی کامیاب رہی ہے، اس بارے میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر عثمان نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ “اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ ہوا ہے۔ غربت میں کمی لانے کے لیے سب سے پہلے اعدادوشمار کا صیح ہونا بے حد ضروری ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکومت، ادارہ برائے شماریات کے ملازمین کو نہ تو مناسب تنخواہیں دیتی ہے نہ ہی سہولیات حتی ٰ کہ انہیں فیلڈ ورک کا الاونس بھی نہیں دیا جاتا۔ ‘‘

BdT Pakistan Lebensmittelausgabe in Lahore

ایک اندازے کےمطابق پاکستان میں غربت کی شرح تقریبا چالیس فیصد ہے

ڈاکٹر عثمان کہتےہیں کہ ہمارے ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں غربت کی شرح تقریبا چالیس فیصد ہے۔ پاکستان میں عام شہریوں کے سماجی حالات پر نظر رکھنے والے متعدد ملکی اور غیر ملکی اداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے شہریوں کا تناسب مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف اگر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف کسی نہ کسی رفتار سے سرکاری ملازمین اور نجی شعبوں کے کارکنوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں غربت کی شرح کم ہونے کے بجائے برھتی ہی کیوں جا رہی ہے؟

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈائریکٹر جنرل آپریشن مختار احمد کہتے ہیں کہ پاکستان میں غربت کا تناسب تقریبا تیس فیصد ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اب تک بائیس لاکھ غریب خاندان مستفید ہو چکے ہیں جبکہ اگلے سال تک ان خاندانوں کی تعداد پچاس لاکھ تک بڑھائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں اس لیے اضافہ ہو رہا ہے کہ ملکی معیشت کمزور ہے غربت میں کمی اسی وقت لائی جا سکتی ہے جب معیشت مستحکم ہو اور صنعتی ترقی پر توجہ دی جائے۔

سماجی علوم کے ماہرین اور کئی اقتصادی محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جو کئی برسوں سے ایک ایٹمی طاقت بھی ہے، عمومی غربت کا تیز رفتار خاتمہ بالکل ممکن ہے۔ لیکن اس کے لیے معاشرتی سطح پر بدعنوانی کا خاتمہ کیا جانا چاہیے، فی کس سالانہ آمدنی میں اضافہ ہو اور حکومت تمام معاشی ترقیاتی پروگراموں پر خلوص نیت سے عمل کرے اور کروائے بھی۔

رپورٹ: عصمت جبیں، اسلام آباد

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM