1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں بڑا مسئلہ ہے، گیٹس

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف براہ راست کارروائی میں حصہ لینے کے امکانات بہت کم ہیں۔

default

رابرٹ گیٹس قندہار میں

گیٹس نے یہ بات جمعہ کو افغانستان کے دورے کے موقع پر کہی۔ امریکی وزیر دفاع نے جنوبی افغان صوبے قندہار میں متعین امریکی افواج سے ملاقات کی اور انہیں مزید سخت کارروائیوں کے لئے تیار رہنے کی تلقین کی۔

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ سرحد پار (پاکستان میں) عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ایک بڑا مسئلہ ہے، تاہم افغان، آئی سیف اور پاکستانی فوج کے درمیان تعاون کے ذریعے ان سے نمٹا جاسکتا ہے۔

Khandahar Market in AfghanistanFlash-Galerie

قندہار کے ایک بازار میں عوام رمضان کی خریداری میں مصروف

اس موقع پر انہوں نے کہا، ’’بدقسمتی سے پاکستان میں حالیہ سیلابوں کے سبب شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کچھ وقت کے لئے مؤخر ہوجائے گا‘‘۔ گیٹس نے طالبان کے ’جائے پیدائش‘ قندہار میں امریکی فوج سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی عسکریت پسندوں کو ’لچکدار دشمن‘ قرار دیا۔ وہ جمعرات کو بغداد سے کابل پہنچے تھے۔

امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے گزشتہ سال مزید 30 ہزار فوجی افغانستان روانہ کرنے کے اعلان کے بعد اب افغانستان میں موجود غیر ملکی فوج کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے برابر ہے۔ باراک اوباما رواں سال دسمبر میں افغان جنگ کی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیں گے اور متعدد اہم فیصلوں کا اعلان بھی کریں گے۔ وہ پہلے ہی جولائی 2011ء سے فوجی انخلاء کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، جسے افغانستان متعین امریکی افواج کی اعلیٰ قیادت اور کابل حکومت کی جانب سے دبے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہتا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں بعض با اثر حلقے اب اس سوچ وبچار میں مصروف ہیں کہ آخر اس جنگ کا کوئی فائدہ بھی ہے؟

General Stanley McChrystal USA Entlassung

امریکی صدر رواں سال کے اواخر میں افغان جنگ کی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیں گے

امریکی وزیر دفاع البتہ قندہار میں پرعزم دکھائے دئے اور کہا کہ بین الاقوامی افواج نے افغانستان میں بہت سے کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔ افغان اور آئی سیف فوجی دستے طالبان کے گڑھ تصور کئے جانے والے جنوبی علاقوں بالخصوص قندہار اور ہلمند میں برسرپیکار ہیں۔ اسی سبب رواں سال غیر ملکی افواج کی ہلاکتوں کے اعتبار سے خونریز ترین ثابت ہورہا ہے۔ محض گزشتہ ہفتے کے چار دنوں میں 20 امریکی فوجی عسکریت پسندوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے اپنے حالیہ دورے میں افغان حکام کو یقین دلایا کہ امریکہ آدھے راستے میں افغانستان کا ساتھ نہیں چھوڑے گا اور خطے میں القاعدہ اور اس سے جڑے دیگر دہشت گرد گروہوں کے خاتمے تک مشن جاری رکھے گا۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت عاطف توقیر

DW.COM