1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں عسکریت پسندوں کا نیا حملہ

شمال مغربی پاکستان میں مبینہ مسلمان عسکریت پسندوں نے صوبہ سرحد کے شہر بنوں کے قریب گشتی فرائض انجام دینے والے پولیس کے ایک دستے پر حملہ کرکے تین اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔

میراں شاہ میں فوج اور عسکریت پسندوںکے مابین جھڑپوں کے بعد تباہی کا ایک منظر

میراں شاہ میں فوج اور عسکریت پسندوںکے مابین جھڑپوں کے بعد تباہی کا ایک منظر


افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب بدامنی کے شکار قبائلی علاقے،شمالی وزیرستان ایجنسی سے کچھ ہی دور ،کم ازکم دس مسلح نقاب پوشوں کی طرف سے ایک چلتے ہوئے پک اپ ٹرک سے پولیس کے ایک گشتی دستے پر یہ حملہ جمعرات کو علی الصبح کیا گیا۔ڈیرہ اسمعیل خان میں پولیس کے ایک افسرآصف محمودنے بتایا کہ حملے کے وقت پولیس کی گاڑی میں چار اہلکار سوار تھے جن میںسے تین جان بحق ہو گئے اور صرف ایک زندہ بچا۔

پاکستانی قبائلی علاقوں، خاص کر شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں طالبان کے حامی اور القاعدہ کے ساتھ رابطوں کے حامل مبینہ عسکریت پسندوںکی طرف سے سیکیورٹی دستوں پرخونزیز حملے آئے دن کی بات ہیںجن کو روکنے کے لئے مسلح افواج اور نیم فوجی دستوں کی کارروائیاں بھی جاری رہتی ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دعوی ہے کہ ان جنگ جو افراد میں مقامی عسکریت پسند بھی شامل ہیں اور عرب اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے اسلام پسندوںکے علاوہ انتہا پسند افغان باشندے بھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ خیبر ایجنسی اور دیگر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے ان حملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔