1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں عسکریت پسندوں کا راکٹ حملہ، چار افراد ہلاک

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں عسکریت پسندوں کی طرف سے ایک آرمی چیک پوسٹ کو نشانہ بناتے ہوئے چھ راکٹ فائر کیے گئے، تاہم ایک راکٹ ایک مکان پر جا گرا ، جس سے چار افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔

default

پولیس کے مطابق منگل کے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔ مقامی پولیس افسر عبدالرشید کے مطابق عسکریت پسندوں نے کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے سے چھ راکٹ فائر کئے اور ان کا ہدف ایک فوجی چوکی تھی۔ ان کے مطابق ایک راکٹ ہنگو کے ایک گاؤں

Mindestens 50 Tote bei Anschlag in Peshawar

پشاور میں بھی عسکریت پسندوں کی طرف سے کئی حملے کئے جا چکے ہیں

تور غنڈئی میں حمید گل نامی ایک شخص کے گھر جا گرا، جس سے وہاں پر موجود چار افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس افسر کے مطابق ایک را کٹ چیک پوسٹ کے قریب بھی گرا ہے تاہم اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ راکٹ لگنے سے ایک سرکاری اسکول کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے، تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ مقامی پولیس کے ترجمان فضل نعیم نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حملے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی۔

ہنگو پشاور سے 150 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے، جہاں اکثریت سنی مسلم اور اقلیتی شیعہ آبادی کے درمیان فرقہ وارانہ جھڑپوں کی اکثر اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ طالبان اور القاعدہ کے حامی گروپ اس علاقے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن حکومت افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے کو طالبان اور القاعدہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ تصور کرتی ہے جبکہ پاکسانی فوج بھی اس علاقے میں گزشہ دو برسوں سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM