1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں عریاں ویب سائٹس پر سلسلہ وار پابندی

پاکستان میں ہیکرز کا مطالبہ تھا کہ ملک میں غیر اخلاق یا عریاں ویب سائٹس پر پابندی عائد کی جائے۔ اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ لاکھ ویب سائٹس پر مرحلہ وار پابندی لگائی جا رہی ہے۔

default

پاکستان میں انٹرنیٹ پرغیر اخلاقی مواد سے بھر پور ویب سائٹس تک رسائی دینے پر عوامی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے گزشتہ چند سالوں سے احتجاج کیا جا رہا تھا۔ گزشتہ برس گوگل کی جانب سے دنیا میں سب سے زیادہ پورن ویب سائٹس سرچ کرنے والے صارفین کی تعداد کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی۔ اس رپورٹ میں پاکستان سر فہرست نظر آیا، جس کے بعد کہیں اپیلوں اور کہیں دھمکیوں کے زور پر ان ویب سائٹس تک رسائی بند کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔ اسی سلسلے میں پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ ہیک کی گئی اور بعد میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن  اتھارٹی’ پی ٹی اے‘ کی ویب سائٹ ہیک کرتے ہوئے اس پر عریاں مواد تک رسائی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چند روز بعد ہی پی ٹی اے کی جانب سے کئی ہزار عریاں ویب سائٹس تک رسائی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سائٹس پر مرحلہ وار پابندی لگائی جا رہی ہے۔ نوجوانوں نے پی ٹی اے کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔

انٹرنیٹ سروس پروائڈرز کے مطابق ان سائٹس پر براہ راست پابندی پی ٹی اے کی جانب سے عائد کی گئی ہی۔ رابطہ کرنے پر پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ پابندیاں عائد کرنے کا حکم وزارت آئی ٹی کی جانب سے دیا گیا ہے، جس کے بارے میں وہ تفصیلات فراہم کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

Symbolbild Kinderpornographie im Internet

نوجوانوں نے پی ٹی اے کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے

آئی ٹی منسٹری کے ایک اعلیٰ حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرکاری سطح پر سے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ صارفین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی نتظیمConsumers rights commision of pakistan سے وابسطہ احمد علی کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کو پابندی عائد کرنے سے پہلے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے تھا۔

پی ٹی اے کی جانب سے صرف ویب سائٹس ہی نہیں بلکہ حالیہ گردش کرنے والی خبروں کے مطابق ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے جانے والے تمام پیغامات کو بھی سینسر کیا جائے گا۔ اس کے لیے پی ٹی اے کی جانب سے ایسا  نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کے مطابق پندرہ سو سے زائد قابل اعتراض الفاظ فلٹر کر دیے جائیں گے۔ ان میں ایک ہزار انگریزی جبکہ پانچ سو پچاس الفاظ اردو کے ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے ان الفاظ پر مشتمل ایک فہرست تشکیل دی جا چکی ہے، جو موبائل  آپریٹرز کو جاری کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کا کوئی سرکاری اعلامیہ تو سامنے نہیں آیا ہے تاہم وزیر امور نوجوانان فیصل سبزواری کے ٹویٹر پر لکھے گئے ایک پیغام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان خبروں میں صداقت ضرور ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی اے کی جاری کردہ فہرست ان کی نظر سے گزر چکی ہے۔ ان الفاظ کو وہ خزانہ مغلظات قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM