پاکستان میں ضمنی انتخابات، بلے اور شیر کا مقابلہ | حالات حاضرہ | DW | 11.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ضمنی انتخابات، بلے اور شیر کا مقابلہ

پاکستان میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے لیے اتوار کے روز ووٹ ڈالے گئے۔ پاکستان کی تاریخ کی مہنگی ترین انتخابی مہم والا لاہور کا حلقہ این اے 122 ملک بھر کے سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حلقہ این اے 122 کا نتیجہ پاکستان میں مستقبل کے سیاسی حالات پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا باعث بنے گا۔ این اے 122 سے ایک درجن سے زائد افراد الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں لیکن اصل مقابلہ پاکستان کے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ نون کے امیدوار سردار ایاز صادق اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان کے درمیان ہے۔

اسی حلقے میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 147 میں مسلم لیگ نون کے محسن لطیف اور پاکستان تحریک انصاف کے شعیب صدیقی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ ادھر اوکاڑہ میں این اے 144 میں ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے پانچ امیدواروں میں پاکستان تحریک انصاف کے اشرف سوہنا اور پاکستان مسلم لیگ نون کے علی عارف چوہدری میں ہی اصل مقابلہ ہے۔

ان انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس پولنگ سٹیشنز پر فوج کے جوان تعینات ہیں۔ صوبائی محکمہ داخلہ کی ہدایت پر لاہور اور اوکاڑہ میں اسلحہ لیکر چلنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ووٹروں کا رش دن کے آخری پہر میں ہی زیادہ دیکھنے میں آیا تھا۔ کئی مقامات پر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نون کے کارکنوں میں کشیدگی کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اتوار کی سہ پہر تک پولنگ کا عمل بڑی حد تک پرامن طور پر جاری تھا۔

ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اچھرہ میں ایک شخص محمد لطیف نے بتایا کہ فوج کے آنے سے انتخابات کو شفاف بنانے میں تو مدد ملے گی لیکن پولنگ سٹیشن کی طرف جانے والے بہت سے راستوں کو غیر ضروری طور پر بند کر دیے جانے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،

شادمان میں ووٹ کاسٹ کر کے آنے والے ایک کاروباری شخص شیخ اعجاز نے بتایا کہ اس نے مسلم لیگ نون کو ووٹ دیا ہے جبکہ ایک آئی ٹی فرم سے وابستہ ایک دوسرے شخص فیصل عزیز نے بتایا کہ انہوں نے تحریک انصاف کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔

ووٹ ڈالنے والے میں ایک دلہن، دو دلہا اور وہیل چئیر پا آنے والے کئی مریض بھی شامل تھے۔ قوت سماعت اور قوت گویائی سے محروم ایک شخص فیصل نے شادمان میں ڈی ڈبلیوکواشاروں کی مدد سے بتایا کہ اس نے شیر کو ووٹ ڈالا ہے جو کہ مسلم لیگی امیدوار کا انتخابی نشان تھا۔

لاہور میں کے پی کے کے علاقوں سے بھی بہت سے لوگ پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ فاٹا کے علاقے مہمند ایجنسی سے آئے ہوئے شاہ نواز نے تو پی ٹی آئی کے امیدوار کے سٹیکروں سے اپنے آپ کو ڈھانپ رکھا تھا اور وہ ووٹروں کی تفریح طبع کے لیے دلچسپ نعرے لگا رہا تھا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج سے حکومت تو نہیں بدلے گی لیکن اگر پاکستان تحریک انصاف جیت گئی تو 2013 کے انتخابات کی شفافیت پر زودار سوالات اٹھیں گے اور اگر مسلم لیگ نون کو فتح ملی تو پھر عمران خان کی انتخابی دھاندلی کے حوالے سے چلائی جانے والی تحریک کا اثر کم ہو جائے گا۔

ان انتخابی حلقوں کے غیر حتمی نتائج رات گئے موصول ہونے کا امکان ہے۔