1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ’صوفیانہ اسلام‘ حملوں کی زد میں

پاکستان میں داتا گنج بخش اور عبداللہ شاہ غازی کے مزارات پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد اب معروف صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے مزار کے باہر ہونے والے بم دھماکے نے کئی نئے سوالات پیدا کر دئے ہیں۔

default

معروف صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے مزار کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے بعد کا منظر

پاکستانی تجزیہ نگار اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ دہشت گرد صوفیا کے مزارات کو نشانہ بنا کر کون سے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

معروف تجزیہ نگار اور انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر راشد رحمٰن کا کہنا ہے کہ امن اور محبت کا درس دینے والے صوفیا جس اسلامی طرز فکر کی نمائندگی کرتے ہیں، اس کے پیروکار برصغیر کے مسلمانوں میں واضح اکثریت رکھتے ہیں۔ لیکن القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان سمیت کئی دہشت گرد تنظیمیں اسلام کے اس تصور کی شدید مخالف ہیں اور وہ اسے اپنے جہادی نظریات کے فروغ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں۔

Pakistan Anschlag Sufi Heiligtum

پاکپتن میں بم حملے کے بعد سکیورٹی اہلکار ثبوت جمع کرتے ہوئے

راشد رحمٰن کے بقول اسی لئے ان مزارات کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ان دہشت گرد تنظیموں میں وہابی مسلک سے تعلق رکھنے والے ایسے تشدد پسند گروہ بھی شامل ہیں، جو مزارات پر جانے اور وہاں اظہار عقیدت کے روایتی طریقوں کو اسلام کے اصل پیغام کے عین برعکس سمجھتے ہیں۔

راشد رحمٰن کے مطابق دہشت گردی کے حالیہ واقعات اگرچہ انتہائی افسوسناک ہیں تاہم صوفی بزرگوں کے مزارات پر حملے پاکستان کے اکثریتی مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور دہشت گردوں کے خلاف ایک نئے سیاسی اور مذہبی محاذ کے بنائے جانے کا باعث بن رہے ہیں، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

Pakistan Selbstmordanschlag

جولائی کے شروع میں لاہور میں داتا دربار کے احاطے میں کئے گئے خود کش حملوں میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما قاری زوار بہادر کا کہنا ہے کہ اکثریتی مسالک کے مسلمانوں کی عقیدت کے مراکز کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ملک میں فرقہ ورانہ فسادات کے ذریعے عدم استحکام کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ فاروق حمید کے مطابق پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی اس سازش میں کسی بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مزارات پر ہونے والے حملوں میں ہاتھ کسی کا بھی ہو، سوال یہ ہے کہ عوام کے اداکردہ ٹیکسوں سے بھاری رقوم حاصل کرنے والی سرکاری سکیورٹی ایجنسیاں دہشت گردی کی ان خونریز وارداتوں کا وقت سے پہلے پتہ چلانے میں کامیاب کیوں نہیں ہو رہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس