1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں صدارتی الیکشن اور ابلاغ عامہ میں جدت کا عمل

پاکستان میں چھ ستمبرکے صدارتی انتخاب کے لئے مہم جاری ہے۔ صدارتی امیدوار لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے ابلاغ کے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ غیر روایتی طریقےبھی استعمال کر رہے ہیں۔

default

نواز شریف اور آصف زرداری: مخالفت، قربت اور پھر دوبارہ فاصلے

ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات ہر جگہ صدارتی انتخاب کی خبریں نمایاں ہیں۔ کہیں صدارتی امیدوار کے امیج کو بہتر بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو کہیں مخالفین کی کردار کشی کا حربہ آزمایہ جا رہا ہے۔ صدارتی مہم میں سرکاری وسائل کا استعمال، آصف زرداری کی دماغی صحت، جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کے عدلیہ مخالف اقدامات اور مشاہد حسین کی طرف سے آمریت کا ساتھ دینے کی باتیں، سبھی تفصیلات لوگوں کے سامنے آ رہی ہیں۔

ممتاز ماہر ابلاغیات ڈاکٹر مجاہد منصوری کہتے ہیں کہ یہ تاثر واضح طور پر مل رہا ہے کہ تشکیل حکومت کے آخری مرحلے میں جب پاکستان میں نئے صدر مملکت کو منتخب کیا جا رہا ہے تو مجموعی طور پر ذرائع ابلاغ کا کردار کافی حد تک منصفانہ ہے اور ملکی میڈیا تمام بڑے امیدواروں کو پوری کوریج دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا کا کردار خاصا پروفیشنل نظر آ رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں افطار پارٹیاں صرف ثواب کے حصول کے لئے منعقد ہوا کرتی تھیں لیکن آج کل صدارتی انتخاب سے قبل افطار پارٹیاں ووٹوں کے حصول اور سیاسی راہ ہمواری کے لئے بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔ انٹر نیٹ پر گردش کرنے والی ایک ای میل آصف علی زرداری کے غیر تصدیق شدہ لیکن بہت قیمتی اثاثوں کی تفصیلات لئے ہوئے ہے توموبائل ٹیلی فونوں کے ذریعے شہر شہر پہنچنے والے ایس ایم ایس پیغامات کو بھی صدارتی امیدواروں کی حمایت اور مخالفت کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔

Pakistan Präsident Pervez Musharraf tritt zurück

اچانک اقتدار میں آنے والے جنرل مشرف کی صدر کے عہدے سے مجبوری میں رخصتی کا نتیجہ ان کی غیر واضح جانشینی کی صورت میں نکلا

ایسے ہی ایک بہت مقبول ایس ایم ایس پیغام میں یہ کہا جارہا ہے کہ چونکہ روزہ دار کی دعا خصوصی شرف قبولیت پاتی ہے، اس لئے دعا کیجئے کہ آصف علی زرداری صدارتی الیکشن میں کامیاب نہ ہوں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک خاتون رہنما عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ ہی اپنے سیاسی مخالفین کے ہاتھوں کردار کشی کا شکار رہی ہے۔ اسی لئے موجودہ صدارتی مہم کے دوران بھی وہی لوگ آصف زرداری کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جن کو اپنی شکست واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔

عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے چلائی جانے والی یہ منظم اورمنفی پراپیگنڈہ مہم قابل مذمت ہے اور سیاست کا جواب تو ہمیشہ سیاست سے دیا جانا چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ذاتیات پر اتر آنا کم ظرفی کا مظاہرہ کرنے کے مترادف ہے۔

ماہر ابلاغیات پروفیسر ڈاکٹر مجاہد علی منصوری کی رائے میں ایس ایم ایس پیغامات ایک ایسا ذریعہ ابلاغ ہیں جس پر کسی کا کنٹرو ل نہیں ہے۔ ان پر کوئی چیک نہیں ہے۔ ان کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہے اور اس ذریعے کو استعمال کرسکنے کے مساوی مواقع ہر کسی کو میسر ہیں۔ اسی بناء پر ایسے پیغامات ایک اہم پراپیگنڈہ ٹول بن چکے ہیں۔ لوگ ان کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سیاسی لطیفے بھیجتے ہیں، تبصرے بھی کرتے ہیں اور ویڈیوپیغامات کا تبادلہ بھی عمل میں آتا ہے۔

پروفیسر منصوری کے بقول جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے انفرادی سطح پر یہ موبائل کمیونیکیشن عوامی جذبات کے اظہار کے ایک ایسے عمل کا ثبوت ہے جسے ابلاغ کی سطح پر محض اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

چھ ستمبر دفاع پاکستان کے دن ہونے والے صدارتی الیکشن میں اگرچہ پاکستان کا کوئی عام ووٹر تو حصہ نہیں لے گا لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران میڈیا کے ذریعے معلومات کے وسیع تر تبادلے کا یہی عمل رائے عامہ کی تشکیل میں بھی بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔