1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں صحت کا شعبہ، نئے بحران کی زد میں

پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہونے سے پیدا ہونے والا بحران عارضی طور پر ٹل گیا ہے۔ منگل کے روز وفاقی حکومت نے ادویات کی درآمد اور برآمد کے لیے این او سی جاری کرنا شروع کر دیے ہیں

default

ادویات کی رجسٹریشن، ان کی قیمتوں کے تعین اور لائسنسز کے اجراء کا کام وفاقی سطح پر ہی ہوتا ہے

تفصیلات کے مطابق 30 جون 2011 ء کے بعد وہ تمام وفاقی ادارے بند ہو گئے تھے، جو ادویات کی رجسٹریشن ، ان کی قیمتوں کے تعین اور ان کے لیے لائسنسوں کے اجراء کا کام کیا کرتے تھے۔ صوبوں میں اس کام کے لیے کوئی بندوبست موجود نہیں تھا۔ اس وجہ سے ادویات کی درآمد اور برآمد رک گئی۔ ہوائی اڈوں پر کولڈ سٹوریج کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی ادویات اور قیمتی ویکسین ضائع ہو گئیں۔ اس کے علاوہ ادویات کی تیار ی کے لیے کارخانوں کو خام مال کی سپلائی بھی بند ہو گئی ہے۔

وفاقی سطح پر اس کام کے لیے ڈرگ ریگیولیٹری ایجنسی کے قیام کے لیے ایک آرڈیننس تیار کیا جا رہا ہے۔ اس آرڈیننس کے تیار نہ ہونے کی وجہ سے ادویات کے اندراج، لائسنسس کے اجراء اور ان کی تجدید کا کام نہیں ہو سکا۔ درآمدوبرآمد بھی متاثر ہوئی، ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال، درآمد نہ ہونے کی وجہ سے تیاری بھی متاثر ہوئی، جس سے مارکیٹ میں ادویات کی کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

Arzt in Krankenhaus mit Patienten, Karachi, Pakistan

وزارت صحت کی صوبوں کو منتقلی سے قبل صرف دو دنوں میں تیس سے زائد نئے دوا ساز اداروں کو لائسنس جاری کیے گئے

ادویات کی کمی کے متوقع بحران کے پیش نظر ایک طرف منافع خور تاجروں نے ادویات ذخیرہ کرنا شروع کر دیں۔ جبکہ دوسری طرف جعلی ادویات بنانے والے لوگ بھی سر گرم ہو گئے۔ یہ سب کچھ پچھلے چند دنوں میں ایک ایسے وقت میں ہو رہا تھا، جب پاکستان میں صحت کے شعبے میں ادویات کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے کوئی ادارہ کام نہیں کر رہا تھا۔

ایک دوا ساز ادارے کے سربراہ شفیق عباسی کہتے ہیں کہ پوری دنیا میں ادویات کی رجسٹریشن، ان کی قیمتوں کے تعین اور لائسنسز کے اجراء کا کام وفاقی سطح پر ہی ہوتا ہے۔ یہ اختیار صوبوں، فاٹا، کشمیر اور گلگت و بلتستان کو دینے سے مسائل پیدا ہوں گے۔ ان کے بقول پیناڈول کی قیمت کراچی اور لاہور میں مختلف ہوگی ۔ لاہور کا ڈاکٹر بلوچستان کی بنی ہوئی دوا کے معیار پر اعتراض کرے گا۔ ایک صوبے کا تاجر غیر معیاری سستی دوا کو اپنے اثر رسوخ سے دوسرے صوبوں میں سمگل کروائے گا۔ ان کے بقول یہ اختیار وفاقی سطح پر ڈرگ ریگولیٹری ایجنسی کے پاس ہی ہونا چاہیے۔ وفاقی حکومت ڈرگ ریگولیٹری ایجنسی کے قیام کے لیے کام تو کر رہی ہے لیکن اسے اس آرڈیننس کی تیاری تک عارضی طور پر بندو بست کرنے کے لیے اگلے تیس دنوں میں صوبوں کی طرف سے این او سی درکار تھا۔

چونکہ وفاقی حکومت نے صحت کا محکمہ صوبوں کو منتقل کرنے کے باوجود لاہور میں قائم شیخ زید ہسپتال اپنی مخالف پنجاب حکومت کو دینے سے انکار کر دیا تھا اس لیے پنجاب حکومت نے بھی وفاقی حکومت کو عارضی طور پر ادویات کی ایکسپورٹ امپورٹ کے لیے این او سی جاری کرنے کا کام شروع کرنے کے لیے اجلزت نامہ دینے سے انکار کر دیا ۔ اس سے یہ بحران مزید شدید ہوگیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں صحت کے محکمے کا کوئی وزیر نہیں ہے۔ یہ محکمہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ دوا ساز اداروں کے مالکان اس صورتحال پر احتجاج کرنا چاہتے تھے لیکن پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے وابستہ کاروباری لوگوں نے انہیں احتجاج کرنے سے روک دیا اور یوں چند روز پہلے ایوان صنعت و تجارت میں دوا ساز اداروں کے مالکان کی طرف سے اعلان کردہ پریس کانفرنس بھی نہیں ہونے دی تھی۔ خوش قسمتی سے پنجاب کے ایک وزیر میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن ادویات کی تیاری اور کاروبار سے منسلک ہیں۔ انہوں نے لندن میں شہباز شریف سے رابطہ کرکے تیس دنوں کے لیے یہ این او سی جاری کروایا یوں اب پاکستان میں ادویات کی ایکسپورٹ اور امپورٹ شروع ہو گئی ہے۔

Erdbeben Pakistan - Behandlung von Verletzten

تیس دنوں میں ضروری فیصلے نہ۔ لیے گئے تو صحت کے شعبے کو بحران کی سی کیفیت کا پھر سامنا ہو سکتا ہے، ماہرین

ایک دوا ساز ادارے کی سربراہ ڈاکٹر شہلا اکرم نے بتایا کہ عوام کے پیسوں پر پلنے والی بیوروکریسی نے صحت جیسے عوامی اہمیت کے حامل شعبے نے شدید غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے بقول 30 جون کا دن اچانک نہیں آیا۔ پچھلے چھ ماہ سے دوا ساز ادارے حکومت کو ان امور پر توجہ دلا رہے تھے لیکن ان کی کسی نے نہ سنی۔ پہلے تو صحت کا وفاقی وزیر ہی نہیں تھا ۔ پھر صحت کے سیکرٹری کا ایڈیشنل چارج ایک مصروف خاتون افسر کو دے دیا گیا۔ انہوں نے وزارت کا کام سمجھنے میں چار ماہ لگا دیے ۔ ڈاکٹر شہلا کے بقول اگلے ایک ماہ میں بھی انہیں حالات میں بہتری کی کوئی زیادہ توقع نہیں ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق وزارت صحت کی صوبوں کو منتقلی سے قبل صرف دو دنوں میں تیس سے زائد نئے دوا ساز اداروں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے منعقدہ اجلاسوں میں مبینہ طور پر کوئی غیر سرکاری نمائندہ موجود نہیں تھا۔ ایک سو انتیس لائسنسز کی تجدید کے لیے بھی سہولتوں کا مناسب طریقے سے جائزہ نہیں لیا گیا۔ نئے لائسنس حاصل کرنے والوں میں کئی پردہ نشینوں کے نام بھی لیے جا رہے ہیں۔ پاکستان فارما سیوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے سربراہ ہارون قاسم نے بتایا کہ فی الحال بحران ٹل گیا ہے لیکن اگر تیس دنوں میں ضروری فیصلے نہ لیے گئے تو صحت کے شعبے کو بحران کی سی کیفیت کا پھر سامنا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عدنان اسحاق