1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف پولیس کاروائی

پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک قرار دیا جاتا ہے اور درجنوں صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ اب ملک کے مختلف حصوں میں صحافیوں کے خلاف پولیس کارروائی کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

default

ڈیرہ غازی خان اور میاں والی میں صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کے اندراج کے بعد اب لاہور کے سینئر صحافیوں کے خلاف بھی ڈکیتی کے پرچے درج کیے گئے ہیں۔

لاہور پریس کلب کے صدر سرمد بشیر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ لاہور میں صحافیوں کے خلاف ڈکیتی کے پرچے حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے بعض ارکان اسمبلی کے ایماء پر درج کرائے گئے ہیں۔ ان کے بقول لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق ایک تنازعے کو بنیاد بنا کر عدالتی کارروائی کی آڑ میں بے گناہ صحافیوں کے خلاف پرچے وہ لوگ درج کروا رہے ہیں جن کا پس منظر مجرمانہ ہے اور ان کے خلاف انہی تھانوں میں کئی مقدمات درج ہیں۔

سرمد بشیر کے بقول یہ مقدمے ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے درج کروائے جا رہے ہیں۔ لاہور کے صحافی اس صورت حال پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پرچے میں نامزد ایک صحافی مزمل گجر نے بتایا کہ تمام متعلقہ صحافیوں نے اپنی گرفتاریاں دے کرعدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میانوالی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کی رپورٹنگ کرنے والے تین صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا گیا

میانوالی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کی رپورٹنگ کرنے والے تین صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا گیا

ادھر میاں والی میں چار جولائی کو ایٹمی بجلی گھر کی طرف جانے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کی رپورٹنگ کرنے والے تین صحافیوں کے خلاف بھی دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آرکے مطابق اس موقع پر موجود صحافیوں کو آتشیں اسلحے سے مسلح قرار دیا گیا ہے۔

رابطہ کرنے پر میاں والی پولیس کے سربراہ وقاص نذیر نے بتایا:’’چار جولائی کو ہجوم میں شامل لوگوں نے ایٹمی بجلی گھر کی طرف جانے کی کوشش کی اور پولیس پر حملہ کیا ان کے بقول طریقہ کار کے مطابق پرچہ تو تمام لوگوں کے خلاف ہی درج ہوتا ہے تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ جو لوگ بے گناہ ہوں گے ان کو بری کر دیا جائے گا۔‘‘ تاہم وقاص نذیر کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ اگر گرفتار شدگان ملوث تھے تو ایک صوبائی وزیر نے ان کے خلاف مقدمات واپس لینے کا اعلان کیوں کیا تھا۔

ادھر ڈیرہ غازی خان میں قتل کے ایک واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے قاتل کو موقع پر ہلاک کر دیا۔ قاتل کے ایک قریبی عزیز پو لیس افسر نے اس مقدمے میں مقامی صحافیوں اوران کے رشتہ داروں کو ملوث کر دیا۔ سینئر صحافی میاں غفار کے مطابق پولیس حکام صحافیوں کی بے گناہی کا اعتراف کرنے کے باوجود ان کو بری نہیں کر رہی۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس