1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کر سکتے ہیں، ایران

ايران نے پاکستان کو خبردار کيا ہے کہ اگر ايرانی سرزمين پر حملے کرنے والے جنگجوؤں کی پاکستان ميں موجود پناہ گاہوں کے خلاف موثر کارروائی نہيں کی گئی، تو ایران ان پناہ گاہوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

 نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق يہ بيان ايرانی فوج کے سربراہ جنرل محمد باقری نے آج آٹھ مئی بروز پير ديا۔ انہوں نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہيں کہ پاکستانی حکام سرحد کو محفوظ بنائیں گے اور دہشت گردوں کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے ٹھکانے بند کرائيں گے۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق  جنرل محمد باقری نے کہا،’’ہم اس صورتِ حال کے تسلسل کو قبول نہیں کر سکتے۔ اگر یہ دہشت گردانہ حملے جاری رہے تو ہم ان شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔‘‘

گزشتہ ہفتے ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار سے ملاقاتوں کے بعد پاکستانی وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق  پاکستان اور ایران کے مابین  مشترکہ سرحد پر سکیورٹی کے اقدامات مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں پاکستان نے ایران کو مشترکہ سرحد پر اضافی فوجی دستے تعینات کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

Pakistan Präsident Nawaz Sharif und Irans Außenminster Mohammed Dschawad Sarif (R) (picture-alliance/AP Photo/Pakistan Press Information Department)

گزشتہ ہفتے ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا

گزشتہ ماہ پاک ايران سرحد کے قريب ایرانی صوبے سیستان بلوچستان میں کارروائی کرتے ہوئے جنگجوؤں نے دس ايرانی سرحدی محافظوں کو ہلاک کر ديا گيا تھا۔ تہران حکومت کا دعویٰ ہے کہ يہ حملہ سنی عسکریت پسند گروہ جيش العدل کے ارکان نے پاکستان سے کيا تھا۔

ایرانی صوبے سیستان بلوچستان کی سرحد پاکستان اور افغانستان دونوں سے ملتی ہے۔ ایران کے ان سرحدی علاقوں میں منشیات کے اسمگلر بھی بہت فعال ہیں۔ پاکستان اور افغانستان سے مشرق وسطیٰ، یورپ اور شمالی افریقہ تک افیون اور ہیروئن کی اسمگلنگ کے لیے یہ روٹ انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔

DW.COM