1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبہ سندھ سے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے جن گیارہ سیینٹروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ان میں سے آٹھ کا تعلق حکمران پیپلزپارٹی جب کہ تین کا اس کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم سے ہے۔

default

اسلام آباد میں واقع پاکستانی پارلیمان کی عمارت

پہلے سے وفاقی حکومت میں شامل مشیر داخلہ رحمان ملک اور وزیرقانون فاروق ایچ نائیک ٹیکنو کریٹس کے لیے مختص نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔ اس طرح اب سو رکنی ایوان بالا یعنی سینٹ میں پی پی پی پی اور اس کی اتحادی جماعتیں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی راہ پر گامزن ہو گئی ہیں جب کہ اس کے ساتھ ہی صوبہ پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں بھی اپنے امید واروں کو بلامقابلہ منتخب کرانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا ہے۔

سب سے بڑے صوبے پنجاب کی گیارہ نشستوں پر انتخابات کے حوالے مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی کے درمیان بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف بھی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ سینٹروں کے بلامقابلہ انتخاب کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی پی کے درمیان مفاہمت کے لیے بات چیت ہوئی ہے۔

ادھر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مفاہمت ہی کے بعد مسلم لیگ (ق) نے بھی دو اہم امیدواروں مشاہد حسین اور روزینہ عالم کو سینٹ کے انتخابات سے دستبردار کرا لیا۔اس حوالے سے منگل کی شام پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق)کے سیکرٹری جنرل سینٹر مشاہد حسین نے کہا کہ گزشتہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی اور ووٹو ں کی خریدوفروخت کا تجربہ سامنے رکھتے ہوئے انہیں صرف ایک سیٹ بچانے کے لئے مفاہمت کرنا پڑی۔

ادھر بعض تجزیہ نگار سینٹروں کے بلامقابلہ انتخاب کو ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے لئیے اچھی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ایسے ناقدین بھی موجود ہیں جن کے خیال میں مختلف سیاسی جماعتیں محض ذاتی مفاد کے لئے اس رجحان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ اس بارے میں سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار طارق بٹ کا کہنا ہے کہ ’’سینٹ کے موجودہ الیکشن میں خاص طور پر سرحد اور بلوچستان کی اسمبلیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اگر سرحد سے سینٹ کے امیدواروں کو دیکھیں تو ان میں دو ایسے امیدوار بھی ہیں جنھوں نے پیسے کا استمعال کرنا ہے اور یہ اتفاق کی بات ہے کہ ان کے پاس حکومتی جماعت کاٹکٹ ہے۔‘‘

طارق بٹ کے مطابق’’بلوچستان میں تو ہمیشہ سے ہی پیسہ چلتا آیاہے اور اس مرتبہ بھی اس کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا اور بلامقابلہ انتخاب کے لیے اس طرح کے طریقے استعمال کرنا درست نہیں۔‘‘

مبصرین کے خیال میں گزشتہ سال اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے تاہم ان انتخابات کے نتیجے میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتیں اب تک عوامی مفاد کے ایجنڈے پر تومتفق نہیں ہو سکیں البتہ یہ ذاتی اغراض کے حصول کے لئے متحد نظر آتی ہیں۔