1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد دریا اب معمول پر

پاکستان میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں ایک سو اکانوے افراد کی ہلاکت اور قریب تین ملین شہریوں کو متاثر کرنے کے بعد بپھرے ہوئے دریا دوبارہ معمول پر آ گئے ہیں اور چار ہفتوں پر محیط سیلابی تباہ کاریوں کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔

یہ بات پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات تیرہ اگست کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں اعلٰی سرکاری حکام کے حوالے سے بتائی گئی۔ ڈی پی اے کے مطابق پاکستانی محکمہ موسمیات کے اعلٰی اہلکار غلام رسول نے آج بتایا کہ ہمالیہ کے پورے علاقے میں ہر سال جولائی اور اگست میں ہونے والی مون سون کی وہ شدید بارشیں، جو پاکستان، بھارت اور نیپال میں بڑے سیلابوں کا سبب بنتی ہیں، اب بند ہو گئی ہیں۔

اسی دوران قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے بھی آج اسلام آباد میں کہا گیا کہ حالیہ شدید سیلابوں کے بعد اب پاکستان میں تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔

اس نیشنل اتھارٹی کے ایک بیان کے مطابق اس سال پاکستان میں مون سون کے موسم میں سیلابوں کے نتیجے میں اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق 191 افراد ہلاک ہوئے تاہم آئندہ دنوں میں ان ہلاکتوں کی حتمی سرکاری تعداد اس لیے زیادہ ہو سکتی ہے کہ حکام ابھی تک ان متاثرہ علاقوں سے ڈیٹا جمع کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، جہاں پہنچنا کچھ عرصہ پہلے تک بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ممکن نہیں تھا۔

حکام کے مطابق اس سال مون سون کے موسم میں سیلاب کی وجہ سے پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں مجموعی طور پر قریب 1.5 ملین انسان بے گھر ہو گئے جبکہ جنوبی صوبہ سندھ میں، جہاں سے ہمالیہ سے نکل کر بحیرہ عرب میں جا کر گرنے والا دریائے سندھ گزرتا ہے، دریا کے ساتھ ساتھ بہت سے سیلاب زدہ علاقوں سے بھی قریب 1.2 ملین شہریوں کو ان کی جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس طرح اس سال سیلاب نے مجموعی طور پر 2.7 ملین پاکستانی باشندوں کو متاثر کیا۔

DW.COM