1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سیلاب کا پانی، اگلے چھ ماہ تک

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں یورپی یونین کے ایک اعلیٰ امدادی عہدیدار نے کہا ہے کہ رواں برس جولائی اور اگست میں ایک بڑے رقبے کو متاثر کرنے والا سیلابی پانی اگلے چھ ماہ تک مختلف علاقوں میں کھڑا رہے گا۔

default

یورپی یونین کے انسانی بنیادوں پر امداد کے کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل Peter Zangl کے بقول اس قدرتی آفت کی تباہ کاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی تک کئی علاقوں تک امداد نہیں پہنچ پائی۔ ECHO کے ڈائریکٹر جنرل Peter Zangl پاکستان کے پانچ روزے دورے پر ہیں۔

EU Peter Zangl Generaldirektor für Humanitäre Hilfe der Europäischen Kommission

یورپی یونین کے انسانی امداد کے کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل Peter Zangl

رواں برس پاکستان میں مون سون کی شدید ترین بارشوں کے بعد بدترین سیلاب نے تباہی مچا کر رکھ دی تھی۔ اس قدرتی آفت سے مجموعی طور پر 20 ملین سے زائد انسان متاثر ہوئے جبکہ ملک کے مجموعی رقبے کا پانچواں حصہ زیرآب آ گیا تھا۔

ملک کے جنوبی صوبہ سندھ میں ابھی تک متعدد علاقے زیر آب ہیں جبکہ ان علاقوں تک پہنچنے کے لئے استعمال ہونے والی تمام سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں۔ ان علاقوں میں چاول اور گندم کی کھڑی فصلیں بھی برباد ہو گئیں، جس کی وجہ سے وہاں کھانے پینے کی اشیاء کی بھی شدید تریں قلت ہے۔

Peter Zangl کے مطابق: ’’ان علاقوں سے یہ پانی صرف تبخیر کے ذریعے ہی ختم ہو سکتا ہے اور اس کا دارومدار یہاں موجود پانی کی مقدار اور موسمی حالات پر ہے۔ اس پورے عمل میں دو سے چھ ماہ تک بھی لگ سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی زندگیوں کو بچانے کے لئے ان تک خوراک اور بنیادی ضرورت کا سامان پہنچانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ انہیں ابھی کئی ماہ تک اسی صورتحال میں رہنا ہو گا۔

Zwei Monate nach der Flutkatastrophe in Pakistan

حالیہ سیلابوں سے ملک کا ایک بہت بڑا حصہ متاثر ہوا

اقوام متحدہ اور مغربی حکام پاکستان میں آنے والے سیلاب کو بین الاقوامی امدادی برادری کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت قرار دے چکے ہیں۔ Peter Zangl نے بھی اس قدرتی آفت کو ’شدید ترین‘ قرار دیا۔

’’ان حالات سے لگتا ہے کہ ہم ایک شدید ترین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں اب بھی امداد ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ پا رہی۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے، جس پر پوری ہیومینیٹیرین کمیونٹی کام کر رہی ہے۔ تاہم صورتحال ایسی ہے کہ تمام ضرورت مندوں تک امداد کا پہنچنا ممکن نہیں۔‘‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس