1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سیلاب سے لگ بھگ ایک ہزار ہلاکتیں

شمال مغربی پاکستان میں امدادی ٹیمیں اُن ہزارہا انسانوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو ملک کی حالیہ تاریخ کے بدترین سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد نو سو سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

default

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا ہے جہاں تقریباً ایک ملین انسان سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ کم از کم 45 پُل تباہ ہو گئے ہیں۔ شمال مغربی پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سینکڑوں مکانات اور وسیع تر رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ پاکستان کو چین سے ملانے والی مرکزی شاہراہ بند ہو چکی ہے۔ مون سون کی شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور زمینی کٹاؤ کے باعث پورے کے پورے دیہات باقی دُنیا سے کٹ گئے ہیں۔

پاکستانی ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فلموں اور ہیلی کاپٹروں سے اُتاری گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے لوگ اپنے سیلاب کی زَد میں آئے ہوئے دیہات کے تباہ شُدہ مکانوں کی دیواروں یا چھتوں پر بیٹھے کسی محفوظ مقام پر منتقلی کے منتظر ہیں۔ کئی دیگر اپنے بچوں اور بزرگوں کو کندھوں پر اٹھائے پیدل ہی پانی میں سے راستہ بناتے کسی محفوظ مقام کی تلاش میں محوِ سفر دکھائی دے رہے تھے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے مطابق ایک ملین سے زیادہ انسان متاثر ہوئے ہیں، پانی تین ہزار سات سو سے زیادہ مکانات کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ہے جبکہ بے گھر انسانوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ اِس صوبے میں 150 افراد لاپتہ ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ سڑکیں زیرِ آب آ جانے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے ساتھ ساتھ سوات اور شانگلہ کے ضلعے بھی ملک کے باقی حصوں سے کٹ چکے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک رپورٹر کے مطابق اُس نے سینکڑوں افراد کو بے سروسامانی کے عالم میں پشاور پہنچتے دیکھا ہے۔ اپنے خاندان کے نو دیگر افراد کے ہمراہ پشاور پہنچنے والے پچیس سالہ مقدر خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ سیلاب

Überschwemmung in Pakistan Flash-Galerie

سیلاب سے متاثرہ ایک خاندان نقل مکانی پر مجبور

اُس کا سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ہے۔ اُس نے بتایا:’’مَیں نے سعودی عرب میں تین سال تک مزدوری کرنے کے بعد ا یک چھوٹی سی دکان قائم کی تھی، جسے سیلاب چند منٹوں میں اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ میرا سب کچھ تباہ ہو گیا۔‘‘

48 سالہ رضیہ بی بی نے بتایا کہ اُس نے اپنے گھر والوں کے ساتھ ساری رات جاگ کر گزاری کیونکہ پانی مسلسل بلند ہوتا جا رہا تھا:’’میرا گھر پانی میں ڈوب چکا ہے، مَیں اپنا تھوڑا بہت ہی سامان بچا کر ساتھ لا سکی ہوں۔‘‘ حکام سیلاب کے متاثرین کو ٹھہرانے کے لئے سکولوں کی عمارات استعمال کر رہے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ اُس نے پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کے انخلاء کے لئے کشتیاں اور ہیلی کاپٹر روانہ کر دئے ہیں۔ مزید یہ کہ فوج کے انجینئر سڑکوں کو کھولنے اور پانی کا رُخ تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

یورپی کمیشن نے بتایا ہے کہ اُس نے انتہائی ضرورت مند افراد کو مدد پہنچانے کے لئے تیس ملین یورو کی انسانی امدادی فراہم کر دی ہے۔ انسانی امداد سے متعلقہ امور کی یورپی کمشنر کرسٹالینا گیورگیئیوا نے کہا:’’ پاکستان ہولناک سیلاب سے متاثر ہوا ہے اور ابھی مزید بارشوں کی پیشین گوئی کی جا رہی ہے۔ ہماری ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔‘‘

خیبر پختونخوا کے صوبائی ریلیف کمشنر شکیل قادر نے بتایا کہ مالا کنڈ کا

Überschwemmung in Pakistan

سیلاب سے متاثرہ ایک گاؤں کے لوگ محفوظ مقام کی جانب روانہ

علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 102 افراد ہلاک ہوئے جبکہ پُل ٹوٹ جانے اور سڑکوں کے روابط ختم ہو جانے کے باعث سولہ ہزار افراد پانی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر سے سیاحت کے لئے وادی ء سوات میں آنے والے 2800 کے قریب افراد بھی سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان ملکی سیاحوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ مون سون کی شدید بارشوں نے شمال مغربی پاکستان کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تاہم جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں بھی گزشتہ چند روز کے دوران شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے باعث پچیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے قائم محکمے کے ایک سینئر افسر عطاء اللہ خان نے بتایا کہ بارشوں کے باعث جنم لینے والے سیلابی ریلوں نے بلوچستان کے آٹھ اضلاع کو متاثر کیا ہے، پندرہ ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے ہیں جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد دو لاکھ پچھتر ہزار کے لگ بھگ ہے۔

ہمسایہ افغانستان میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں اب تک ایک ہزار سے زیادہ خاندان متاثر ہوئے ہیں جبکہ کم از کم 65 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ترقیاتی امور کی جرمن وزارت نے سیلاب سے شدید متاثرہ پاکستان کے لئے جرمن امداد بڑھا کر ایک ملین یورو کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب تک جرمن وزارتِ خارجہ کی جانب سے پانچ لاکھ یورو فراہم کئے جا چکے ہیں۔ ترقیاتی امور کی وزارت کی جانب سے دی جانے والی اضافی امداد متاثرین کو اَشیائے خوراک کی جلد از جلد فراہمی پر خرچ کی جائے گی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس