1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سیلاب: سندھ اور بلوچستان میں 141 افراد ہلاک

حکام کے مطابق مون سون کی حالیہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے باعث 400 سے زائد افراد زخمی بھی ہیں۔

default

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(NDMA) کے مطابق حالیہ بارشوں نے سب سے زیادہ تباہی صوبہ سندھ میں مچائی جہاں 133 افراد ہلاک اور 390 زخمی ہوئے، جبکہ بارشوں کے نتیجے میں کھڑے ہونے والے پانی کے سبب زراعت کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان میں بارشوں کی وجہ سے آٹھ افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کے سبب سندھ کے تیرہ اضلاع متاثر ہوئے ہیں جبکہ بارشوں کا پانی کھڑا ہونے کے سبب بڑی تعداد میں لوگوں کو بے گھر بھی ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ، وفاقی حکومت اور صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹیز صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرین کی مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا ئے جارہے ہیں۔

صوبہ سندھ میں 133 افراد ہلاک اور 390 زخمی ہوئے

صوبہ سندھ میں 133 افراد ہلاک اور 390 زخمی ہوئے

بارشوں کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اب تک بین لاقوامی برادری سے مدد طلب نہ کرنے سے متعلق ایک سوال پر احمد کمال نے کہا کہ ابھی تک مقامی سطح پر صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’اگر صورتحال این ڈی ایم اے اور وفاقی حکومت کے ہاتھ سے باہر ہوتی ہے تو اس صورت میں ہم بین الا قوامی برادری سے مدد کی اپیل کریں گے۔ اگر اِس وقت کوئی تشویش ہے تو وہ اسی تناظر میں ہے کہ گزشتہ برس کے سیلاب میں دریاؤں کے اوپر بندوں کو جو نقصان ہوا تھا ان کی مرمت کا کیا حال ہے تو اس بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض جگہوں پر سو فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ بعض جگہوں پر ابھی کام مکمل ہونا باقی ہے۔اس وجہ سے اگر وہاں اونچے درجے کا سیلاب آتا  ہے تو اس سے ہنگامی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔‘‘

احمد کمال کے مطابق اس وقت دریائے سندھ میں صرف گدو بیراج کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کی وجہ سے پچاس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں ستر سے اسی فیصد کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں اور ایک لاکھ سے زائد مویشیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

بارشوں کا پانی کھڑا ہونے کے سبب بڑی تعداد میں لوگوں کو بے گھر بھی ہونا پڑا ہے

بارشوں کا پانی کھڑا ہونے کے سبب بڑی تعداد میں لوگوں کو بے گھر بھی ہونا پڑا ہے

ڈبلیو ایف پی کے نمائندے امجد جمال نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک حکومت پاکستان کی جانب سے حالیہ بارشوں سے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے درخواست نہیں کی گئی، تاہم ان کے ادارے کو اگر متاثرہ افراد کی مدد کے لئے کہا گیا تو وہ اس کے لیے تیارہیں۔

امجد جمال کے مطابق ورلڈ فوڈپروگرام پاکستان میں گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے نتیجے میں متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لئے مختلف امدادی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے جو اگلے سال تک کے لئےترتیب دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مون سون کی  حالیہ بارشوں کی وجہ سے بعض علاقوں میں پہلے سے تباہ حال انفرا سٹرکچر کو مزید نقصان پہنچا ہے، ’’ابھی تک لوگ عارضی رہائش گاہوں میں موجود ہیں۔ وہ کیمپوں میں تو نہیں لیکن جب وہ اپنے گھروں کو لوٹے ہیں تو انہیں مستقل چھت نہیں مل پا ئی۔ سندھ اور بلوچستان میں اب بھی لوگ عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔‘‘

دوسری جانب سندھ کے بار شوں سے متاثرہ  اضلاع میں امداد نہ ملنے پر متاثرین کی جانب سے  حکومت مخالف مظاہروں کی بھی اطلاعات ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت:  افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس