1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سیلاب: بیس لاکھ سے زائد افراد متاثر

پاکستان کے جنوبی علاقوں میں مون سون بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد اسّی ہو چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت سے بیس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

default

صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے عہدے دار آصف جمیل نے اتوار کو جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’صوبہ سندھ میں گزشتہ ہفتہ کو شروع ہونے والی بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں اب تک اسّی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔‘‘

انہوں نے ٹیلی فونک انٹرویو میں مزید کہا: ’’ہم مزید سیلاب سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘

ماحولیاتی رپورٹوں میں مزید بارشوں کی پیشین گوئی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو لاکھ سینتالیس ہزار آٹھ سو اڑتالیس گھر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ کسان گنے، کپاس اور چاول کی پچیس ہزار ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان احمد کمال کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ بیس لاکھ افراد میں سے نواسی ہزار پانچ سو دو کو امدادی کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

اس قدرتی آفت نے سندھ کے دیہی علاقوں کو ایسے وقت آ لیا، جب بیشتر متاثرہ افراد ابھی گزشتہ برس کے سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہی نہیں نکلے تھے۔ گزشتہ برس کے سیلاب کو پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت قرار دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

گزشتہ برس کے سیلاب سے انگلینڈ کے برابر پاکستان کا رقبہ زیر آب آیا جبکہ آسٹریلیا کی مجموعی آبادی کے برابر افراد متاثرہ ہوئے تھے۔

Pakistan Überschwemmung Flutkatastrophe Flüchtlinge Zeltlager

متعدد متاثرین امدادی کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، حکام

اس آفت کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ متاثرین کی مدد کے لیے زیادہ سے زیادہ رقوم جاری کرے۔ اس عالمی ادارے نے پاکستان میں آنے والے اس سیلاب کو حالیہ برسوں میں کسی بھی ملک کو درپیش سب سے بڑا چیلنج قرار دیا تھا۔

اس وقت اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ ہر دس میں سے ایک پاکستانی سیلاب سے متاثر ہوا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ قصبے اور گاؤں کے گاؤں سیلابی ریلوں کی نذر ہوئے، بجلی اور مواصلات کا نظام تباہ ہوا، پُل اور سڑکیں بہہ گئیں۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس