1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سیلاب: بارودی سرنگیں متاثرہ علاقوں میں

پاکستان میں دیگر سیلابی تباہ کاریاں کے ساتھ ہی صوبے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے کئی زمینی بارودی سرنگیں بھی سیلابی پانی کے ساتھ بہہ کر ملک کے نشیبی علاقوں میں پہنچ گئی ہیں۔

default

پاکستان میں ریاستی تاریخ کے بد ترین سیلابوں کے متاثرین ابھی سنبھل بھی نہیں پائے کہ شہری سلامتی کے حوالے سے ممکنہ طور پر ایک نیا خطرہ سر اٹھانے لگا ہے۔ شمالی پاکستان کے قبائلی علاقوں، ڈیرہ اسماعیل خان، مالا کنڈ، وادیء سوات، بلوچستان کے مختلف حصوں اور جموں کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب سے سیلابی ریلوں کے بہت سی زمینی بارودی سرنگیں بہہ کر ملک کے دیگر علاقوں تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ مہلک ہتھیار ممکنہ طور پر بہت سی شہری ہلاکتوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کے نمائندے مائیکل اوبرائن کا کہنا ہے کہ ”سیلابی علاقوں سے پانی میں بہہ کر آنے والی بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد نے نشیبی علاقوں میں خطرات بڑھا دئے ہیں، جہاں عام شہریوں کو اب احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ خاص طور پر بچوں کوخبردار کرنا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ شے کو نہ چھوئیں۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010

پاکستان میں حالیہ سیلاب نے تاریخی تباہی مچائی ہے

بین الاقوامی اداروں کے مطابق ایسی بارودی سرنگوں کے باعث اب تک ڈیرہ اسماعیل خان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں کوٹلی کے مقام پر تین واقعات دیکھنے میں آ چکے ہیں۔ ریڈ کراس کی ایک خاتون عہدیدار ستارہ جبیں نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے ان بارودی سرنگوں کے سیلابی پانیوں کے ذریعے دوسرے علاقوں میں پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں تو ایسا بارودی مواد سیلاب سے پہلے بھی موجود تھا مگر سیلابی ریلوں کے باعث یہ بارودی سرنگیں اب صوبہ خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں تک پھیل گئی ہیں۔

ستارہ جبیں کا کہنا ہے کہ متاثرین سیلاب جب اپنے علاقوں میں واپس پہنچیں گے، تو ان بارودی سرنگوں کی وجہ سے وہ شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے سربراہ شفقت ملک کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے جو بارودی مواد اور سرنگیں ملک کے دیگر حصوں تک پہنچ گئی ہیں، ان کی تلاش کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

ماہرین اس حوالے سے واضح خطرات کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے ادارے نے سینکڑوں زمینی بارودی سرنگوں کا سراغ لگا کر انہیں ناکارہ بنایا اور وہ عام شہریوں کو یہی مشورہ دیں گے کہ کسی بھی مشتبہ نظر آنے والی شے کو چھوا نہ جائے بلکہ فوری طور پر متعلقہ ادارے کو آگاہ کیا جائے۔

شفقت ملک نے بتایا کہ اس مشکل کام میں اب تک اقوام متحدہ اور ریڈ کراس سمیت کسی بھی بین الاقوامی ادارے نے ان کی کوئی مدد نہیں کی اور یہ خطرناک کام صرف پاکستانی سر انجام دے رہے ہیں۔ چند مبصرین کے بقول افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستانی حکومت اور بین الاقوامی اداروں نے اب تک اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کوئی پالیسی نہیں بنائی۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM