1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار؟

پاکستان آرمی کے شعبہ ء تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی جمعرات کے روز کی گئی پریس کانفرنس سے ملک میں ایک بار پھر سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کا تاثر پید ہوا ہے۔

default

ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور

اس تاثر نے اس وقت زور پکڑا جب پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر چلی کی وزیرِ داخلہ احسن اقبال آج جمعہ چھ اکتوبر کو سہ پہر تین بجے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ اسلام آباد میں کئی حلقے یہ خیال کر رہے تھے کہ یہ پریس کانفرنس ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ کے جواب میں ہوگی۔ تاہم ملک میں اب بھی کئی حلقوں کی یہ رائے ہے کہ فوج اور سول حکومت میں ابھی بھی کشیدگی ہے اور ان کے درمیان تعلقات میں تناؤ ہے۔

اس پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے ایک اہم مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر ظفر علی شاہ نے جو آج کل اپنی جماعت سے ناراض ہیں، ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ سول ملٹری تعلقات میں بہت تناؤ پیدا ہوگیا ہے اور میرے خیال میں اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے کیونکہ وہ عدلیہ سے بھی تصادم چاہتی ہے اور فوج سے بھی ، جو کئی اندرونی اور بیرونی محاذ پر پاکستان کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں کورم پورا نہیں ہوتا۔ وزراء اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور قانون سازی صرف اس وقت کی جاتی ہے جب ایک شخص کو بچانا ہو۔ عوامی مفاد میں کوئی قانون سازی نظر نہیں آتی۔ اگر اس تصادم کی پالیسی کو سول حکومت نے نہیں چھوڑا تو پھر ملک کو بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘

لیکن کچھ ناقدین کے خیال میں اس تناؤ کی ذمہ دار سول حکومت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ ہے، جو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا نہیں چاہتی اور مسلسل سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا نے اس مسئلہ پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں سول ملٹری تعلقات میں تناؤ نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے فوراﹰ بعد شروع ہوگیا تھا جب میاں صاحب نے آرمی کی خواہش کے برعکس بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی وزرات اعظمیٰ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کا فیصلہ کیا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کشیدگی کو مزید ہوا اس وقت ملی جب دسمبر دوہزار پندرہ میں مودی نواز شریف کی نواسی کی شادی کی تقریب میں آئے: ’’اس آمد کا اسٹیبلشمنٹ نے بہت برا منایا کیونکہ سکیورٹی کلیئرنس کے حوالے سے کئی اقدامات ہوتے ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ کے خیال میں حکومت کو کرنے چاہییں تھے اور اس نے نہیں کیے۔ اسی طرح اس سال بھارتی تاجر جندال کی آمد پر بھی اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ تو بات واضح تھی کہ نواز شریف بھارت اور افغانستان سے اس انداز میں تعلقات بہتر کرنا چاہتے تھے، جو انداز ہماری اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں ہے۔‘‘

موجودہ تناؤ کی وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’خواجہ آصف کا وہ بیان جس میں انہوں نے اپنا گھر بہتر کرنے کی بات کی تھی، وہ پاکستان کے طاقتور حلقوں کا پسند نہیں آیا۔ پھر وزیرِ اعظم اور کچھ وزراء نے بھی خواجہ آصف کے بیان کی مختلف انداز میں تائید کر دی، جس سے اسٹیبلشمنٹ یقینا ًآگ بگولہ ہوئی۔ میرے خیال سے جہادی تنظیموں کو مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کے مسئلے پر بھی سول حکومت اور جی ایچ کیو میں اختلافات ہیں اور کل کا ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان اس کا واضح اشارہ بھی ہے۔‘‘

پی پی پی کے رہنما اور سابق وزیر برائے صنعتی پیداوار آیت اللہ درانی کے خیال میں سول ملٹر ی تعلقات میں کوئی تناو نہیں ہے: ’’مجھے تو کسی طرح کا تناؤ نظر نہیں آتا۔ کیا نواز شریف جیل میں ہیں؟ کیا مسلم لیگ پر پابندی لگ گئی ہے؟ نواز شریف اورآرمی دونوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ لہٰذا کوئی تصادم نہیں ہوگا۔ جو بات آج نواز شریف کر رہے ہیں ماضی میں ایسی ہی باتیں بلوچ، سندھی اور پشتون رہنماؤں نے کی تھیں، تب انہیں غدار اور ملک دشمن قرار دیا گیا تھا لیکن میاں صاحب کو بھر پور پروٹول دیا جاتا ہے۔‘‘

Indien Narendra Modi trifft Nawaz Sharif in Neu-Dheli 27.05.2014

’’کشیدگی کو مزید ہوا اس وقت ملی جب دسمبر دوہزار پندرہ میں مودی نواز شریف کی نواسی کی شادی کی تقریب میں آئے‘‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جمعرات پانچ اکتوبر کی پریس کانفرنس پر ذرائع ابلاغ پر خوب تبصرے ہورہے ہیں ۔ جب کہ اس پریس کانفرنس کے کئی نکات آج پاکستان میں سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث رہے۔ ایک ٹوئیٹر صارف نے لکھا، ’’ڈی جی نے دنیا کو یقین دلا دیا کہ پاکستان کی بیرونی اور اندورنی پالیسوں پر سویلین حکومت کا کوئی کنڑول نہیں ہے۔‘‘
ایک خاتون ٹوئیٹرصارف نے ڈی جی کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ماں کہتی ہے ایک چپ سو سکھ۔‘‘
ایک مشہور صحافی نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا، ’’سول ملٹری تعلقات ایک سیاسی موضوع ہے۔ اس پر ڈی جی کو بات کرنی نہیں چاہیے۔‘‘