1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سوشل میڈیا پر ’ملک دشمنی‘، وزیر داخلہ کی تنبیہ

پاکستانی وزیر داخلہ نثار علی خان نے تنبیہ کی ہے کہ سوشل میڈیا پر ’ریاست دشمن‘ مواد شائع کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وزیر داخلہ نے سرکاری کریک ڈاؤن کی بھی تصدیق کر دی۔

Chaudhry Nisar Ali Khan (picture-alliance/dpa/Metin Aktas/Anadolu Agency)

پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے منگل تئیس مئی کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق چوہدری نثار علی خان نے آج کہا کہ حال ہی میں پاکستان میں سوشل میڈیا پر سرگرم صارفین کے ایک مخصوص حلقے کی طرف سے ملکی فوج اور عدلیہ پر جو حملے کیے گئے، وہ ’ناقابل قبول‘ ہیں۔

فوج مخالف سوشل میڈیا صارفین کے خلاف مہم، سول سوسائٹی ناراض

پاکستان میں ثقافتی تنوع ، مکالمت اور ترقی کے امکانات

پاکستان میں آن لائن تنقید: ’حکومتی کریک ڈاؤن‘ کے خلاف تنبیہ

ساتھ ہی وفاقی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا کارکنوں کے خلاف سرکاری کریک ڈاؤن کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ملکی سکیورٹی ادارے ستائیس ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی شناخت کر چکے ہیں، جن کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

نثار علی خان کے بقول ان میں سے چھ اکاؤنٹس کے سلسلے میں متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے تاہم کسی کو بھی تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ ملکی وزیر داخلہ نے اس حوالے سے کہا کہ ناقدین کو دیکھنا چاہیے کہ ملکی قوانین کی رو سے ایسی سرخ لکیریں بھی ہیں، جنہین عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسی دوران پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے اہلکاروں نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ جن افراد سے پچھ گچھ کی گئی، ان سے یہ چھان بین ملکی فوج اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کے حوالے سے سائبر کرائمز کا احاطہ کرنے والے قوانین کے تحت کی گئی۔

آزادی رائے اور اظہار رائے کی آزادی کے حامی سرگرم کارکنوں کو اس سلسلے میں ریاستی اداروں کی کارروائیوں پر اس لیے تشویش ہے کہ ان کے مطابق یہ سرکاری کریک ڈاؤن اظہار رائے کی آزادی پر اور اختلافی سوچ رکھنے والوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات