1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ

ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے بیشتر علاقوں میں سردی کی شدت میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

default

بھارت کی طرح پاکستان میں بھی آج کل بہت سے علاقے شدید سردی اور دھند کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے کئی شہروں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے جا چکا ہے۔

اگرچہ سردیوں کے موسم میں سردی کا ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن آج کل موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نہ صرف سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ موسم سرما کے دورانیے میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بارشوں کا نہ ہونا اور بعض علاقوں میں شدید دھند کا پڑنا موسمی حالات میں ہونے والی تبدیلیوں کو ظاہر کر رہا ہے۔

محکمہ موسمیات پنجاب کے سربراہ حضرت میر نے ڈویچے ویلے کو بتایا کہ اس وقت کوئٹہ ، سکردو ، گلگت ، کشمیر اور بعض شمالی علاقوں میں درجہ حرارت منفی دس سے منفی بارہ سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے۔ اس کے علاوہ مری، بالا کوٹ اور ایبٹ آباد کے علاقوں میں بھی کم سے کم درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر گیا ہے۔

ادھر لاہور شہر میں کم سے کم درجہ حرارت ایک اشاریہ چھ سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پچھلے تیس سالوں کے دوران انہی دنوں میں لاہور کا کم سے کم درجہ حرارت اوسطاﹰ پانچ اشاریہ چھ سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا جاتا رہا ہے۔ آج کل لاہور شہر میں جو درجہ حرارت دیکھنے میں آ رہا ہے وہ روایتی درجہ حرارت سے بھی چار سینٹی گریڈ کم ہے۔

شدید سردی اور دھند کی وجہ سے ٹرینوں، ہوائی جہازوں اور بسوں کی آمدو رفت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ موٹر وے اور جی ٹی روڈ کو عام ٹریفک کیلئے بار بار بند کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی علاقوں سے حادثات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

ادھر پنجاب کے جنوبی شہر میاں چنوں میں دھند کی وجہ سے ایک ٹرین کے سکول وین سے ٹکرا جانے کے نتیجے میں بارہ بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی سردی کی وجہ سے ملک میں گیس کی کھپت میں ہو جانے والے شدید اضافے کے بعد گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی کی جا رہی ہے۔

انار کلی چوک کے قریب بس سٹاپ پر کھڑے ایک ٹھٹھرتے ہوئے شہری عمر مختار نے بتایا کہ شدید سردی نے زندگی کے تمام معاملات کو بری طرح متاثر کیا ہےاوردھند کی وجہ سے سفر کرنا مشکل ہو تا جا رہا ہے۔ خشک سردی کی وجہ سے نزلہ زکام، کھانسی اور نمونیہ جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں اور دفتروں میں حاضری کم رہتی ہے۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ سے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ گھروں میں کھانا پک سکتا ہے اور نہ ہی کوئی گیس ہیٹر دستیاب ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بھی عوامی مشکلات میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے خشک اور سرد موسم کے جاری رہنے کی پیشن گوئی کی ہے اور کہا ہے کہ پندرہ اور اٹھارہ جنوری کے دوران سرحد کے بالائی علاقوں، مالاکنڈ، ہزارہ، گلگت اور کشمیر میں ہلکی بارش کی توقع ہے۔ جبکہ پہاڑوں پر برف باری ہونے اور میدانی علاقوں میں دھند پڑنے کا بھی امکان ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد،لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM