1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سال کا خونریز ترین ڈرون حملہ، چھبیس ہلاک

حقانی نیٹ ورک کے ایک ٹھکانے پر کیے گئے ایک ڈورن حملے کے نتیجے میں چھبیس افراد مارے گئے ہیں۔ کچھ دن قبل ہی پاکستانی فوج نے اس علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی اور کینیڈٰین جوڑے اور ان کے تین بچوں کو رہا کرایا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے آج سترہ اکتوبر بروز منگل مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان ڈرون طیاروں نے کرم ایجنسی میں ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا، جہاں حقانی نیٹ ورک کے ارکان کی میٹنگ جاری تھی۔ بتایا گیا ہے کہ بغیر پائلٹ کے چار جاسوس طیاروں نے چھ میزائل فائر کیے جن کی وجہ سے چھبیس مشتبہ جنگجو مارے گئے۔

نہ امریکی خاتون کا ریپ ہوا، نہ بچہ قتل کیا گیا، طالبان

امریکا کو مشترکہ آپریشن کی دعوت، متعدد سیاسی جماعتیں چراغ پا

واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان درجہٴ حرارت بڑھنے کا امکان

رواں برس کے دوران پاکستان میں ہونے والا یہ خونریز ترین ڈورن حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ افغانستان سے محلق پاکستانی قبائلی علاقہ جات میں ماضی میں بھی ایسے ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں۔

کرم ایجنسی میں ایک مقامی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا، ’’پہلے ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کے پانچ جنگجو مارے گئے۔ دوسرا حملہ اس وقت ہوا، جب جنگجو تباہ حال عمارت سے لاشیں نکالنے کے لیے جمع ہوئے۔‘‘

منگل کی صبح اس اہلکار نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر مزید کہا، ’’مجموعی طور پر چھیبس لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ڈرون طیارے ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی حکام نے پاکستان پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف زیادہ مؤثر کارروائی کرے۔ یہ حملے ایسے وقت پر ہوئے ہیں، جب کچھ دن قبل ہی اس قبائلی علاقے میں پاکستانی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی اور کینیڈٰین جوڑے اور ان کے تین بچوں کو رہا کرایا تھا۔

حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں ایک خطرناک ترین جنگجو گروہ قرار دیا جاتا ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان میں مقامی اور غیر ملکی افواج پر کئی بڑے حملوں میں ملوث بتایا ہے۔

واشنگٹن حکومت کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے پاکستانی فوج کے کچھ حلقوں کے ساتھ بھی روابط ہیں تاہم پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ انہی الزامات کے باعث پاکستان اور امریکا کے مابین تناؤ بھی دیکھا جا رہا ہے۔

DW.COM