1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سالانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ جاری

رواں مالی سال کے لئے اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق اس سال ملک میں معاشی ترقی کی شرح4.1 فیصد رہی جبکہ مالیاتی خسارہ 5.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی کی شرح 12 فیصد اور بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 5.5 فیصد ہو گئی۔

default

اسلام آباد میں اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر خزانہ سینیٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی بہتر پالیسیوں کے نتیجے میں نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کے اقتصادی اشاریوں میں بہتری آئی ہے۔

سینیٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا: ’’حکومت نے ملک میں اقتصادی ترقی کےلئے ایسے فیصلے کئے جوعام طور پر سیاسی حکومتوں کےلئے مشکل ہوتے ہیں۔ ان کے اچھے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ شرح نمو اقتصادی ترقی میں نہایت اہم ہوتی ہے، جو 1.2 فیصد رہ گئی تھی لیکن اب اللہ کے فضل وکرم سے 4.1 فیصد ہو گئی ہے۔‘‘

اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں بجلی کی قیمتوں میں 60 فیصد اضافہ ہوا جبکہ توانائی کے بحران کے سبب اقتصادی شرح نمو دو فیصد کم رہی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس سے منسلک ماہر معیشت ڈاکٹر ظفر معین کے مطابق ملک میں توانائی کا بحران اب بھی جاری ہے اور اگر حکومت نے اس مسئلے پر قابو نہ پایا تو یہ اقتصادی ترقی کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔

ان کے بقول ’’300 ارب روپے کا نقصان کوئی تھوڑا نقصان نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں معیشت کو دو فیصد کم کردیا ہے، جو اگر آبادی کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو بری کارکردگی کا ثبوت ہے۔‘‘

اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 25 فیصد کمی ہوئی، جس سے حکومتی قرضوں میں 235 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال کےپہلے نو ماہ کے دوران ملکی برآمدات کی مالیت 2.6 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کی مالیت5.2 ارب ڈالر رہی۔

دہشت گردی کے واقعات کے سبب براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پانچ فیصد کمی کے ساتھ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر رہی۔ اس سروے رپورٹ کے مطابق احباب پاکستان اورامریکہ کی جانب سے کولیشن سپورٹ فنڈ بروقت نہ ملنے سے ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی معیشت کی کاکردگی کے حوالے سے اس سالانہ اقتصادی سروے میں خراب ملکی اقتصادی صورتحال، ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ میں تاخیر اور یورو زون کی ریاستوں میں قرضوں کے بحران کو آئندہ مالی سال کے دوران پاکستانی معیشت کی کارکدگی میں بہتری کے سلسلے میں ممکنہ طور پر بڑی رکاوٹیں قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت: عدنان اسحاق