1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں سات سو یورپی ویزوں کے چوری سے کھلبلی

پاکستان میں یورپی ملکوں کے سات سو ویزوں کی چوری کی اطلاعات کے بعد امیگریشن حکام تمام ائر پورٹس پر چوکس ہو گئے ہیں۔ حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

default

یورپی ممالک کے غیر استعمال شدہ700 سے زائد ویزے ، پاسپورٹس اور رہائشی اجازت نامے چوری ہونے کے انکشاف کے بعد پاکستان بھر کےایئرپورٹس پر امیگریشن حکام نے یورپ کا سفر کرنے والے مسافروں کے ویزوں کی کڑی جانچ پڑتال شروع کردی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف اس اندیشہ کے پیش نظر کئے گئے ہیں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے یورپ کا سفر کرنے والوں کے ساتھ دہشت گرد اور انسانی اسمگلر ان چوری شدہ ویزوں کا استعمال نہ کریں۔

اسلام آباد میں جرمن سفارتخانہ کے حکام نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے امیگریشن حکام کو ایک مراسلہ کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ 2008ء میں جرمنی کی جانب سے جاری کردہ یورپی یونین کے جعلی ویزے پکڑے گئے تھے اور ان ویزوں میں D39 سیریز استعمال کی گئی تھی۔ حالانکہ اس سیریز کے ویزوں کا مارچ 2009ء میں اجرا کیا گیا تھا۔ اس مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اپریل 2010ء تک پوری دنیا میں 750غیر استعمال شدہ رہائشی

Flughafen Seoul

سرٹیفکیٹ مختلف ممالک میں واقع جرمن سفارتخانوں سے چوری ہوچکے ہیں۔ اس مراسلہ میںپاکستانی امیگریشن حکام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ D39 سیریز کے چوری شدہ ویزے ان دنوں تیزی سے استعمال ہورہے ہیں ۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں مختلف ممالک سے چوری ہونے والے غیر استعمال شدہ ویزوں کو دہشت گردوں اور انسانی اسمگلروں کی جانب سے استعمال کئے جانے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن صبح صادق کا کہنا ہے کہ ویزوں یا پاسپورٹ کی چوری کے بعدسفارتخانہ تمام مالک کے امیگریشن حکام کو مطلع ضرور کرتے ہیں جب کوئی ایسے ویزوں کواستعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خود کار نظام کے ذریعے ایسے ویزوں کی نشاندہی ہوجاتی ہے۔ ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے امیگریشن آفیسرصبح صادق نے کہا کہ سفارتخانوں کے ساتھ وہ خود بھی ایسے معاملہ میں فکر مند اور چوکنا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جرمن سفارتخانہ کی جانب سے ویزوں کی چوری کی اطلاع ملنے کے بعد جرمنی یا یورپ کی تمام فلائٹوں پر سفر کرنے والے مسافروں کی سفری دستاویزات کو نہایت احتیاط اور تفصیل سے چیک کیا جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں امیگریشن آفیسر صبح صادق نے کہا کہ جب ویزے چوری ہوتے ہیں تو وہ استعمال تو ضرور ہونگے۔ اسی لئے خدشات موجود ہیں۔

سابق امیگریشن آفیسر شاہد حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تمام ایئرپورٹس پر ویزوں اور پاسپورٹ کو چیک کرنے کا جدید نظام نصب ہے اس خود کار نظام سے بچ کر کسی مسافر کا گزرنا مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں امیگریشن حکام کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ کیونکہ ویزوں کی چوری کے بعد یورپ اور امریکہ کے فضائی سفر کو مسافر غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔

جرمن سفارتخانہ نے پاکستانی امیگریشن حکام کو یورپی یونین کے ویزوں اور رہائشی اجازت ناموں کے سیکورٹی فیچرز سے بھی آگاہ کردیا ہے۔ رپورٹ: رفعت سعید کراچی ادارت: عابد حسین