1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں سابق خاتون اول نصرت بھٹو کا سوگ

سابق صدر اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے انتقال پر پاکستان میں 10 روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔ آج ملک بھر میں عام تعطیل بھی ہے۔

بیگم نصرت بھٹو

بیگم نصرت بھٹو

82 سالہ نصرت بھٹو کا انتقال اتوار 23 اکتوبر کو دبئی میں ہوا۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھیں۔ بیگم نصرت بھٹو پاکستان میں اس وقت حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ تھیں۔ وہ موجودہ صدر آصف علی زرداری کی خوش دامن بھی تھیں۔

بیگم نصرت بھٹو ایک متمول ایرانی خاندان میں پیدا ہوئیں جو کراچی میں منتقل ہوا تھا۔ 1951ء میں ان کی شادی اس وقت کے معروف سیاسی خاندان  کے فرزند اور مستقبل کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ہوئی۔ نصرت بھٹو کو پیپلز پارٹی کے اندر بھی نہایت عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ کئی مرتبہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن بھی منتخب ہوئی تھیں۔

بیگم نصرت بھٹو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی والدہ ہیں

بیگم نصرت بھٹو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی والدہ ہیں

پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بیگم نصرت بھٹو کے انتقال پر 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔ آج پیر کے روز قومی تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے گیلانی نے اپنی تمام طے شدہ مصروفیات معطل کر دی ہیں۔ ان کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ اعلان کے مطابق اس موقع پر ملکی پرچم سر نگوں رہے گا۔ آج ملک بھر میں تمام حکومتی دفاتر، اسکول اور کاروباری دفاتر بھی بند رہیں گے۔

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے دبئی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نصرت بھٹو کی میت کو پیر کی شام پاکستان لایا جائے گا، جہاں بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں ان کی تدفین کی جائے گی۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس