1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستان میں زوال کا شکار سینما آرٹ

پاکستان میں فلمی صنعت زوال کا شکار ہے اور سینما گھروں کی تعداد بھی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ فلموں کے اشتہاری ہورڈنگز بنانے والوں کا روزگار خطرے میں ہے۔

default

فلموں کے اشتہاری ہورڈنگز بنانے والوں کو عرف عام میں فن کے مداح سینما آرٹ کا نام دیتے ہیں۔ ابھی بہت زیادہ وقت نہیں گذرا کہ پاکستان کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں فلم بینوں کو سینما گھروں کا رخ کرنے کی ترغیب دینے کے لئے اکثرمقامات پر وہ رنگ برنگے ہورڈنگز نظر آتے تھے، جنہیں تیار کرنے والے کاریگروں کو ان کی محنت کا بہت کم معاوضہ ملتا ہے۔

اب بڑے شہروں میں بھی سینما گھروں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے اور ہر وہ سینما جو بند کر دیا جاتا ہے یا گرا دیا جاتا ہے، اُس کی جگہ کوئی نہ کوئی نیا تعمیر کیا گیا تجارتی مرکز لے لیتا ہے۔ ایسے میں ہورڈنگز تیار کرنے والے سینما آرٹسٹوں کے مالی مسائل پر توجہ بھلا کون دے گا؟

اسلام آباد شاید دنیا کے اُن محض چند دارالحکومتوں میں سے ایک ہے، جہاں ایک بھی سینما گھر موجود نہیں ہے۔ لیکن راولپنڈی اور اس کے جڑواں شہر اسلام آباد میں سینما آرٹ کے ماہر دستی کارکنوں کی مالی حوصلہ افزائی اور سینما آرٹ کو عوامی سطح پر دوبارہ مقبول بنانے کے لئے اِن دنوں یہاں ایک ایسی کئی روزہ نمائش جاری ہے، جس میں متعدد سینما آرٹسٹ بھی حصہ لے رہے ہیں اور ان کی مدد کے لئے فائن آرٹس کے مقامی طلبہ و طالبات بھی اُن کے ہمراہ ہیں۔ یہ نمائش اسلام آباد کی ’ گیلری سِکس‘ میں جاری ہے، جو چودہ مئی کو شروع ہوئی اور ستائیس مئی تک جاری رہے گی۔

Podcast Artikel - Cinemaskop

اسلام آباد شاید دنیا کے اُن محض چند دارالحکومتوں میں سے ایک ہے، جہاں ایک بھی سینما گھر موجود نہیں ہے

اس نمائش کا مقصد یہ بھی ہے کہ سینما آرٹ کے ذریعے صرف فلموں کی تشہیر نہ کی جائے، بلکہ اسے ایک قابل ستائش فن کے طور پر چھوٹی شکل میں زیادہ سے زیادہ گھروں اور دفتروں تک میں پہنچایا جائے۔ اس نمائش کے منتظم ڈاکٹر ارجمند فیصل نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نمائش کا مقصد سینما آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کے لیے روزگار کے بہتر مواقع مہیا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توقع سے بڑھ کر اسلام آباد کے لوگوں نے اس کو پسند کیا ہے، جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ نمائش میں رکھے گئے تقریبا تمام فن پارے فروخت ہو گئے ہیں۔

نمائش میں شریک فائن آرٹس کے ایک طالب علم شاہ زیب حسن کا کہنا تھا کہ نئی نسل کے لیے اس طرح کی نمائشوں کا انعقاد اس لیے بھی بے حد ضروری ہے کہ ان کو اپنی ثقافت سے آگاہی ملتی رہے۔ اس نمائش میں چار سینما آرٹسٹوں کے فن پارے رکھے گئے ہیں، جن میں عزیز غوری، ریاض بھٹی، فیض راہی اور سریش کمارشامل ہیں۔ فیض راہی نے ڈوئچےویلے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نمائش کی ابتدا کراچی سے ہوئی اور اب اسلام آباد کے بعد ایسی ہی ایک نمائش کا انعقاد لاہور میں بھی کیا جائے گا۔ ’’اس سے یقینا ہمیں روزگار کے نئے مواقع ملنے کی امید ہے کیونکہ ہمارا فن ہی ہمارا روزگار ہے۔‘‘

پاکستان میں فلمی صنعت کے ساتھ ساتھ جو سینما آرٹ بھی زوال کا شکار ہے، اسے دوبارہ مقبول بنانے کے لئے اپنی نوعیت کی یہ پہلی نمائش ہی کافی ثابت ہو گی، اور اِس کے نتائج بھی دیرپا ہوں گے، فوری طور پر یہ دعویٰ کرنا یقینا مبالغہ آرائی ہو گی۔ تاہم اپنی اولین حالت میں سینما آرٹ کی اس نمائش کے ذریعے یہ تسلیم کرانے کی کوشش بہرحال کی گئی ہے کہ ہورڈنگز تیار کرنے والے پینٹر بھی فنکار ہوتے ہیں۔ وہ فنکار جن کے تیار کردہ کم لاگت والے فن پاروں کی عمر بھی کم ہوتی ہے، اور جنہیں اُن کے ہنر کا زیادہ معاوضہ بھی نہیں ملتا۔ سینما آرٹ کی ترقی اور سرپرستی کے لئے موجودہ رویے اور حالات بدلنے چاہیئں، یہی اس نمائش کا اصل پیغام بھی ہے اور مقصد بھی!

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارات : عدنان اسحاق