1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں دیسی ساخت کے بموں کے حملوں میں اضافہ

پاکستان میں دیسی ساخت کے دھماکہ خیز آلات کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں گزشتہ چار برسوں میں تقریباﹰ ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈیز) کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں یہ اضافہ ایک سو پینتالیس فیصد سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ابھی گزشتہ روز (منگل کو) افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں تین علیحدہ علیحدہ دیسی ساختہ بموں کے حملوں کے نتیجے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک جب کہ چوبیس زخمی ہوئے۔

پاکستان کے ایک انٹیلی جنس اہلکار نے روئٹرز کو بتایا: ’’یہ مہارت کہاں سے آ رہی ہے، ہو سکتا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ عراق سے آئی ہو، پھر افغانستان سے اور اب یہ یہاں ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں خود کش دھماکے کم ہو گئے ہیں جبکہ دیسی ساختہ بموں کے ذریعے کیے جانے حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی انتہاپسندوں کا پسندیدہ ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔

دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات افغان طالبان کی جانب سے بھی وہاں تعینات اتحادی فوجیوں کے خلاف اکثر استعمال کیے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ منگل کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجک مذاکرات بھی شروع ہوئے، جن میں آئی ای ڈیز پر قابو پانے کے طریقہ کار بھی زیر غور آئے۔

ان مذاکرات کے آغاز پر پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا: ’’یہ ایک خطرناک ہتھیار ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ان ہتھیاروں کا پتہ چلانے کے لیے سکیورٹی فورسز کو زیادہ بہتر آلات فراہم کیے جائیں گے۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2007ء میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر آئی ای ڈیز کے چار سو تیرہ حملے ہوئے، 2010ء میں یہ تعداد ایک ہزار پندرہ ہو گئی۔

خیال رہے کہ عراق میں انتہاپسندوں نے صدام دور میں چھپایا گیا دھماکہ خیز مواد آئی ای ڈیز بنانے کے لیے استعمال کیا۔ تاہم افغانستان اور پاکستان میں صورت حال مختلف ہے، جہاں زیادہ تر آئی ای ڈیز امونیم نائٹریٹ کے ذریعے بنائی جاتی ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل⁄ روئٹرز

ادارت: شامل شمس

DW.COM