1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں کمی، سہرا فوج کے سر

پاکستان میں قائم  دو ریسرچ گروپوں کے مطابق ملک میں گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات اور پر تشدد کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ دونوں گروپ حالات میں بہتری کا سہرا فوج کے سر باندھتے ہیں۔

Pakistan Schusswechsel und Explosionen auf Universitätscampus in Charsadda (Getty Images/AFP/A. Majeed)

دونوں گروپوں نے دہشت گردانہ کارروائیوں میں کمی کا سبب پاکستانی فوج کے شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن کو قرار دیا ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ’سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز‘ اور ’پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز‘  نے دہشت گردانہ واقعات کی تعداد میں نمایاں کمی نوٹ کی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ اِن کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکام کو پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں  فرقہ واریت پسند اور بھارت مخالف انتہا پسندوں سے لڑائی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

 دونوں گروپوں نے دہشت گردانہ کارروائیوں کے گراف میں گراوٹ کا سبب پاکستانی فوج کے ملک کے قبائلی علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن کو قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ اِن گروپوں کے جاری کردہ  اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کے ساحلی شہر کراچی اور کم آبادی والے صوبے بلوچستان میں عسکریت پسندی کے خلاف فوجی کارروائی بھی تشدد کی کارروائیوں میں کمی کا باعث ہے۔

 ریسرچ گروپ ’سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز‘ کے مطابق گزشتہ برس سن 2015 کے مقابلے میں دہشت گردی سے جڑے واقعات میں ہونے والی اموات میں 45 فیصد کمی ہوئی ہے۔ تاہم ’پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹیڈیز‘ کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ سن 2016 میں اُس سے ایک برس پہلے کی نسبت 28 فیصد رہی۔ اِن دونوں ریسرچ گروپوں کے ریکارڈ پر مبنی یہ اعداد و شمار اِس ہفتے کے اختتام پر جاری کیے گئے ہیں۔

DW.COM