1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں خونریزی کے گیارہ دن

خود کش اور کمانڈو سٹائل کے حملوں کے نہ رکنے والے سلسلے نے پاکستانی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔

default

حکومت پچھلے دوبرسوں میں ہونے والے تمام حملوں کی ذمہ داری اسلامی انتہا پسندوں پر ڈال رہی ہے۔گذشتہ گیارہ دنوں میں اب تک 8 خونریز حملے کئے جا چکے ہیں۔

15 اکتوبر۔

لاہور میں قانون نافذ کرنے والے تین اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق ان حملوں میں سیکورٹی فورسز کے 12 اہلکاروں سمیت سولہ افراد ہلاک ہوئےہیں۔ یہ حملے ایف۔آئی۔اے کی عمارت، مناواں پولیس ٹریننگ سینٹر اور بیدیاں روڈ پر واقع ایلیٹ فورس کے ٹریننگ سینٹر پر کئے گئے۔

Pakistan Ausschreitungen

15 اکتوبر۔

کوہاٹ میں ہونے والےاس خود کش حملے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور بارہ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ حملہ صدر تھانے کے بیرونی دروازے پرکیا گیا۔

12 اکتوبر۔

شانگلہ میں ہونے والے اس خودکش دھماکے میں 6 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 45 افراد مارے گئے تھے۔ یہ دھماکہ مالاکنڈ کے ضلع شانگلہ کے علاقے الپوری کے بازار میں ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے بارود سے بڑی گاڑی سکیورٹی فورسز کے قافلے سے ٹکرا دی تھی۔

10/11 اکتوبر۔

Pakistan Opfer nach Selbstmordanschlag im Krankenhaus von Peshawar

دس عسکریت پسندوں نے پاکستان آرمی کے راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈ کوارٹر جی۔ایچ۔کیو پر حملہ کیا اور 42 آرمی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس آپریشن میں 23 افراد ہلاک جبکہ 39 یرغمالیوں کا رہا کروا لیا گیا۔ اس حملے میں پاکستان کے دو اعلی افسر بریگیڈیر انوارالحق اور لیفٹینٹ کرنل وسیم ہلاک ہوئے تھے۔

9 اکتوبر۔

پشاور کے خیبر بازار میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں 52 شہری ہلاک جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ پشاور میں چار ماہ کے دوران یہ چھٹا حملہ تھا۔

5 اکتوبر

اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ تھری میں ہونے والے اس حملے میں عالمی امدادی ادارے "ورلڈ فوڈ پروگرام" کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ادارے کے 5 کارکن ہلاک ہوئے۔ فوجی وردی میں ملبوس ایک خودکش حملہ آور ادارہ "ورلڈ فوڈ پروگرام" کے دفتر میں داخل ہوا اور خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔ دوسرے کئی حملوں کی طرح اس حملے کی ذمہ داری بھی پاکستان تحریک طالبان TTP نے قبول کی۔

تحریر: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

ملتے جلتے مندرجات