1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں خود کُش حملہ، عالمی برادری کی مذمت

امریکی صدر باراک اوباما نے ہفتہ 25 دسمبر کو شمال مغربی پاکستان میں رونما ہونے والے اُس ’شرمناک دہشت پسندانہ حملے‘ کی مذمت کی ہے، جس میں ایک خود کُش حملہ آور نے خوراک کے انتظار میں کھڑے درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا۔

default

امریکی صدر اوباما: فائل فوٹو

اوباما نے امریکی ریاست ہوائی سے، جہاں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ کرسمس گزار رہے ہیں، ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ خار پاکستان میں کی جانے والی اِس ظالمانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ’ورلڈ فوڈ پروگرام کے خوراک تقسیم کرنے کے ایک مرکز کے باہر جمع بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنا پاکستان کے عوام اور پوری انسانیت کی برملا توہین کے مترداف ہے‘۔

یہ دھماکہ افغان سرحد سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقے باجوڑ میں خار کے مقام پر ہوا، جہاں ایک برقعہ پوش نے، جسے کچھ حکام ایک خاتون کہہ رہے ہیں، کم از کم 43 افراد کو ہلاک اور 100 سے زیادہ کو زخمی کر دیا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق مقامی سالارزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے، اِس مرکز پر راشن لینے کے لئے ایک قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ اِس قبیلے نے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی تھی اور اُنہیں باجوڑ سے نکالنے کے لئے ایک ملیشیا بھی تشکیل دی تھی۔

Selbstmordanschlag in Pakistan ARCHIV WFP

پاکستانی شورش زدہ قبائلی پٹی میں خوراک تقسیم کرنے کا عمل

اوباما نے اپنے مختصر بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ اِس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ ہے اور پاکستان کی جانب سے اپنے عوام کے لئے زیادہ امن، سلامتی اور انصاف کے لئے کی جانے والی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے‘۔

واضح رہے کہ واشنگٹن حکومت اِن قبائلی علاقوں کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا بین الاقوامی ہیڈکوارٹر قرار دیتی ہے اور یہاں عسکریت پسندی کے خاتمے کو ہمسایہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جاری نو سالہ جنگ میں کامیابی کے لئے فیصلہ کن خیال کرتی ہے۔

اُدھر برطانیہ نے بھی اِس خود کُش حملے کی مذمت کی ہے۔ جونیئر وزیر خارجہ السٹیئر برٹ نے وزارتِ خارجہ سے جاری کئے گئے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ’معصوم پناہ گزینوں کے خلاف یہ ہولناک حملہ بڑی بے رحمی سے یہ بات یاد دلاتا ہے کہ دہشت گرد کتنی اندھا دھند کارروائیاں کرتے ہیں اور یہ حملہ اِس بات کی بھی ایک مثال ہے کہ کیوں پوری دُنیا کو ہر طرح کی سرحدوں سے بالاتر اِس خطرے کا مل کر سامنا کرنا چاہئے‘۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس