1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں خواتین ڈاکٹرز: پریکٹس کی بجائے گھرداری

پاکستان میں سال 1999 میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے کوٹہ سسٹم میں خواتین کی کم نشستوں کے خلاف ایک خاتون نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی، جس کے بعد داخلے کا ’اوپن میرٹ‘ نظام رائج کر دیا گیاْ

default

پاکستان میں 1999میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خواتین کی ایک بڑی تعداد نےطب کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی

اس تبدیلی کے بعد سے خواتین کی ایک بڑی تعداد طب کے شعبے میں تعلیم حاصل کرتی چلی آ رہی ہے اور آج کل اس شعبے میں خواتین کی شرح 75 سے 80 فیصد ہے۔ یہ اور بات ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اِس پیشے میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔

زیادہ تر خواتین جیسے ہی اپنی طب کی تعلیم مکمل کرتی ہیں، اُن کی شادی ہو جاتی ہے اور وہ اپنے خاندان کو وقت دینے کی وجہ سے پریکٹس نہیں کرتیں۔ اکثر خواتین سوچتی ہیں کہ پہلے ان کے بچے ہو جائیں، تو بھر وہ اپنے شعبے کو بھی وقت دیں گی۔

Arzt in Krankenhaus mit Patienten, Karachi, Pakistan

پاکستان کے شہری علاقوں میں ہر سومریض کے لئےایک ڈاکٹر ہے

ڈاؤ یونیورسٹی کراچی کے پرو وائس چانسلر اور سندھ میڈیکل کالج کے صدر ڈاکٹر عمر فاروق پاکستان میں تازہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر مریض کی شرح 1:100 ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 1:600-900 تک بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہر 14 ہزار مریضوں کے لئے ملک میں صرف1 ماہر ڈاکٹر موجود ہے اور اگر طب کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین اسی طرح پڑھائی کے بعد گھر بیٹھنے لگیں گی اور مرد ڈاکٹر اچھی تنخواؤں کے پیچھے بھاگیں گے، تو دس سال کے اندر اندر ملک میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہوجائے گی۔

ڈاکڑ فاروق کا کہنا ہےکہ ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد خواتین طب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کام نہیں کرتیں، خاص طور پر اگر ان کی شادیاں ہو جائیں۔ جو پچاس فیصد کام کرتی بھی ہیں، اُن میں سے بھی 25 فیصد بچے ہونے کے بعد کام چھوڑ دیتی ہیں۔

اس معاملے میں حالات اس حد تک سنگین ہوگئے ہیں کہ کچھ حلقوں کے خیال میں سپریم کورٹ کو اپنا 1999 والا فیصلہ واپس لے لینا چاہئے۔

ایک لیڈی ڈاکٹر فریال خان کے مطابق زیادہ تر خوتین اس لئے کام نہیں کر پاتیں کیونکہ گھر اور کام دونوں کو ساتھ لے کر چلنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ بتاتی ہیں کہ خود انہوں نے کافی بار کوششیں کیں کہ وہ کوئی پارٹ ٹائم ملازمت تلاش کر لیں تاکہ اپنی دو چھوٹے بچوں کو بھی وقت دے سکیں مگر یا تو ایسا کوئی کام تھا ہی نہیں یا پھر پیسے توقع کے مطابق نہیں تھے۔

Doctor Humayra Abedin

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد خواتین طب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کام نہیں کرتیں

ایک اور لیڈی ڈاکٹر مریم وقاص کے مطابق زیادہ تر خواتین ڈاکٹروں کے شوہر اُن کے اوقاتِ کار سےخوش نہیں ہوتے۔ وہ نہیں چاہتے کہ اُن کی ڈاکٹر بیویاں راتوں کو یا طویل دورانیے تک کام کریں۔ اِن حالات میں نوجوان میڈیکل گریجوایٹ خواتین کام چھوڑنا اور گھر پر ہی رہنا بہتر سمجھتی ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ سات سال پہلے ان کے ساتھ تعلیم سے فارغ ہونے والی زیادہ تر خواتین ڈاکٹر اپنی مرضی سے گھر بیٹھی ہوئی ہیں۔

داکٹر سمرینا ہاشمی نے 1990ء میں اپنے جڑواں بچوں کے پیدائش کے فوراً بعد کام شروع کر دیا تھا، اسی لئے ان کے لئے یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ آج کل کی خواتین ایسا کیوں نہیں کر سکتیں۔ یہ اور بات ہے کہ ڈاکٹر ہاشمی 1990ء میں برطانیہ میں مقیم تھیں اور ان کو پاکستان کی طرح کے معاشرتی حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا اور ان کے بچوں کو سنبھالنے کے لئے Day care سینٹر کی سہولت بھی موجود تھی۔

ڈاکڑ عذرا احسان کے مطابق کسی بھی کام کرنے والی خاتون کے لئے ایسا گھرانہ اور ایسا شوہر ہونا بہت ضروری ہیں، جو اُس کے کام کی نوعیت کو اچھی طرح سجھ سکے اور مکمل طور پر اُس کی تائید و حمایت کرے۔

ڈاؤ میڈیکل کالج کی ایک طالبہ ناصرہ عبدالحق کے مطابق خواتین ڈاکٹروں سے یہ اُمید کرنا کہ ان کو ہر حالت میں کام کرنا ہی چاہئے، غلط ہے۔ ان کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے یا نہ کرنے کا حق ہونا چاہئے،انہوں نے مزید کہا کہ کالجوں سے اوپن میرٹ سسٹم بھی ختم کر دینا چاہئے، شاید اس طرح زیادہ مرد اس شعبے میں آئیں۔

ڈاکٹر سمرینا ہاشمی کا کہنا یہ بھی ہے کہ خواتین کے لئے اگر کام کی جگہوں کو سازگار بنا دیا جائے، جہاں ان کے بچوں کے لئے بھی سہولیات موجود ہوں، انہیں رات کے وقت ہسپتالوں سے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت مل سکے، تو شاید حالات بہتر ہو جائیں۔

رپورٹ : سمن جعفری

ادارت : امجد علی

ویب لنکس